خدا نے کچھ بھی بیکار نہیں بنایا

خدا نے کچھ بھی بیکار نہیں بنایا

آسمان زمین کو دیکھ کر بولا، زمین تُجھ  پر

مجھے ترس آتا ہے، تو نے بہت ظلم جھیلے ہیں۔

بہت بےبس بہت بےچارہ ہے رےتو۔

مجھے دیکھ،  میرے وجود  میں چاند ستارے اور سورج سماۓ  ہوۓ ہیں

جوتجھے روشنی بخشتے ہیں۔

میرے وجود میں بسنے والے بادل تجھے زرخیزرکھتے ہیں،

تیری خُشکی مِٹاتے ہیں۔

میں اگر نا ہوتا تو سوچ تیرا کیا ہوتا۔

زمین مُسکرائی اور بولی میرے ہونےسے ہی تیرا ہونا ہے۔

بھلے میں نے سب کُچھ سہا ہے مگر نا بھول تو بھی برابر کا شریک رہا ہے۔

آسمان نے حیرت بھرے اندازمیں پوچھا ، وہ کیسے؟

زمین نے پُر جوش انداز میں جواب دیا،

ارے بھیا دیکھنے والا بھی آدھا ظلم سہہ رہا ہوتا ہے۔

خیر،اگر میں نا ہوتی  توتیری  روشنی  کس کام کی ہوتی؟

ذراسوچ اگر میں نا ہوتی تو تیرے سورج اور چاند بھی  نکمے رہتے ۔

اگر میں ناہوتی تو تیرے بادلوں کا گرجنا یا برسناکس کام کا ہوتا؟

یہ سُن کر آسمان  کو  احساس ہوا کہ خُدا نے

کُچھ بھی بے معنی نہیں بنایا اورخاموش ہوگیا۔

نتیجہ: ہمیں احساسِ کمتری کا شکارہونے کے بجاۓ  خود میں چھُپے خصوصیات کو جاننا چاہیۓ کیونکہ خدا کُچھ بھی بیکار نہیں بناتا۔

 

To Top