کیسے بلیٹن کروں گا اس کے ساتھ اس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ' خاتون میزبان نے کیا کہہ دیا کہ ساتھی میزبان ہتھے سے اکھڑ گیا

کیسے بلیٹن کروں گا اس کے ساتھ اس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ‘ خاتون میزبان نے کیا کہہ دیا کہ ساتھی میزبان ہتھے سے اکھڑ گیا

ٹیلی وژن پر روز اول سے خبروں کو پیش کرنے کا ایک باضابطہ طریقہ دنیا بھر میں رائج ہے اس حوالے سے مناسب لباس میں نیوز اینکر کمر کس کے بیٹھا ہوتا ہے اور روانی کے ساتھ خبریں پیش کر رہا ہوتا ہے ۔اسی سبب ہم سب کسی بھ نیوز بلیٹن میں ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے نہ صرف عادی ہوتے ہیں بلکہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کو قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے ۔

لوگوں کی توجہ خبریں پڑھنے والوں سے زیادہ خبروں کی جانب ہوتی ہے مگر حالیہ دنوں میں دو نیوز اینکر یا میزبانوں کی جانب سے آن اسکرین تلخ کلامی نے خبریں پیش کرنے والوں کو خود ہی خبر بنا ڈالا ۔ لیک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد میزبان خاتون میزبان کو تنقید کانشانہ بناتے ہوۓ سخت سست کہہ رہا ہے ۔

جب کہ اس کے مقابلے میں خاتون میزبان اسی کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ کسی بھی طرح اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے اس سارے معاملے کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تو اس عوالے سے لوگوں کی مختلف آرا سامنے آئيں کچھ لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھ کر دونوں کو فارغ کرنے کا مشورہ دیا

تو کچھ لوگوں نے ان کے اس جھگڑے کو ان کی محبت کی شروعات قرار دیا

کچھ لوگوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ دونوں میاں بیوی لگ رہے ہیں

جب کہ کچھ لوگوں کے نزدیک غلطی سراسر مرد میزبان کی تھی جو کہ خاتون میزبان کے خاموش کروانے کے باوجود غصہ کیۓ جارہا تھا

عورت کے ساتھ اس طرح بدتمیزی سے بات کرنے پر کچھ لوگوں نے اس مرد کو مفت مشوروں سے بھی نواز دیا

اس سارے معاملے نے خبریں بتانے والوں کو خود ہی خبر بنا ڈالا جس سے سب شائقین بہت محضوظ ہوۓ تبھی تو وہ یہ کہہ بیٹھے

بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو مگر یہ ایک مثبت عمل نہیں ہے آف اسکرین کے جھگڑے آف اسکرین ہی رہیں تو بہتر ہے ان کے سامنے آنے پر یہ صرف تضحیک کا ہی سبب بنتے ہیں اب تک یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ میڈیا چینل والوں نے ان دونوں افراد کے خلاف کیا کاروائی کی مگر ان دونوں کے ساتھ ساتھ اس فرد کے خلاف بھی کاروائي کی جانی چاہیۓ جس سے یہ ویڈیو لیک کی.

To Top