'تم اپنے باپ کو ہمارے سامنے گالیاں دو اور ناک زمین پر رگڑ کر معافی مانگو' اس نوجوان نے ایسا کیا جرم کر دیا جس کی اس کو اتنی بڑی سزا بھگتنی پڑی

‘تم اپنے باپ کو ہمارے سامنے گالیاں دو اور ناک زمین پر رگڑ کر معافی مانگو’ اس نوجوان نے ایسا کیا جرم کر دیا جس کی اس کو اتنی بڑی سزا بھگتنی پڑی

پاکستان کے اندر عام شہریوں کا یہ ماننا ہے کہ طاقتور کے لیۓ الگ قانون ہے اور کمزور کے لیۓ علیحدہ قانون ہے اس بات کا مظاہرہ عام طور پر اکثر اوقات مالدار اور طاقتور طبقے کی جانب سے کیا جاتا ہے جب وہ کسی بھی کمزور کے ساتھ ایسا سلوک کر جاتے ہیں جو قانونی نقطہ نظر سے کسی صورت درست نہیں ہوتا مگر پھر بھی قانون ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا

ایسا ہی ایک واقعہ خانیوال کے گاؤں تلمبا میں پیش آیا جہاں قمر عباس نامی نوجوان نے پسند کی بنیاد پر ایک لڑکی ارم بی بی کے ساتھ بھاگ کر نکاح کر لیا واقعے کی اطلاع جب لڑکی والوں کو ہوئی تو انہوں نے قمر عباس کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ ارم بی بی کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دے

اس کے بعد باقاعدہ دھوم دھام سے ان کی رخصتی کروا دی جاۓ گی قمر عباس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا جب کہ ارم بی بی اس علاقے کے بااثر افراد کی بیٹی تھی جن کے لیۓ یہ بات قطعی قابل برداشت نہ تھی کہ ان کی بیٹی کسی غریب کے ساتھ بیاہی جاۓ اسی وجہ سے انہوں نے پہلے ارم بی بی کو اپنے قبذے میۂ کیا اس کے بعد بہانے سے قمر عباس اور اس کے بھائی کو بلا کر قید کر لیا

قید کے دوران انہوں نے نہ صرف ان دونوں بھائيوں کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان کو اس بات پر بھی مجبور کیا کہ وہ نہ صرف اپنے والدین کو گالیاں دیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خاک و مٹی پر اپنے ناک سے سات بار لکیریں بھی کھینچیں اور اس بات کا اعتراف کریں کہ ارم بی بی کے ساتھ ان کا نکاح ایک بہت بڑی غلطی تھی

اس سارے عمل کی ویڈیو بنا کر قمر عباس سے اپنی مرضي کا ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کر لیا گیا یہ ویڈيو جب نجی ٹی وی چینل پر سامنے آئی تو موجودہ وزیر اعلی عثمان بوزدار نے نہ صرف اس معاملے کا نوٹس لیا بلکہ انہوں نے پولیس احکام کو اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کاروائي کا بھی حکم دیا جس کے نتیجے میں تین افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی

عثمان بوزدار کے اس فوری ایکشن سے قمر عباس اور اس جیسے کئي غریبوں کو اس بات کی امید پیدا ہو چلی ہے کہ فوری انصاف کے ذریعے وڈیروں اور طاقتوروں کی جانب سے ان پن کیۓ گۓ اس ظلم و زیادتی کا سلسلہ روکا جا سکتا ہے

To Top