قصور کے جنسی اسکینڈل کے متاثرین اب کس حال میں ہیں ایسے انکشافات کے سب کے رونگٹھے کھڑے ہو جائیں

قصور کے جنسی اسکینڈل کے متاثرین اب کس حال میں ہیں ایسے انکشافات کے سب کے رونگٹھے کھڑے ہو جائیں

قصور  اسکینڈل کی گونچ پہلی بار 2015 میں سنی گئی جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ 2008 سے لے کر 2014 کے دوران علاقے کے اندر ایک گھناونا کاروبار پروان چڑھ رہا ہے جس کے مطابق معصوم بچوں کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی ویڈیوز بنا کر ان کے والدین کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہے اور ان ویڈیوز کی بیرون ملک فروخت بھی کی جاتی ہے

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس عمل کے متاثرہ بچوں کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں میں تھی اس اسکینڈل کے سامنے آتے ہی عوام میں سخت غصہ اور بے چینی پائی جانے لگی اس کے بعد 2017 میں اسی قصور میں دس معصوم بچیوں کو جنسی زيادتی کے بعد ہلاک کرنے کی خبریں بھی سامنے آئيں اور اس کے بعد قصور کی معصوم زینب کی ہلاکت کی خبر نے تو ایک طوفان ہی برپا کر دیا

قصور سانحے کے حوالے سے کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جن کے خلاف عدالتوں میں کیس بھی چل رہے تھے مگر اب قصور کے کچھ متاثرین کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس کے مطابق اس واقعے کے ذمہ دار نہ صرف عدالتوں سے رہا ہو گۓ ہیں بلکہ رہائی ک بعد وہ اپنے خلاف گواہوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں

اس حوالے سے قصور اسکینڈل کا ایک متاثرہ نوجوان دانش منظر عام پر آیا ہے اور اس نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ اس کے مقدمے کے ملزمان جو کہ بااثر افراد ہیں نہ صرف ضمانت پر باہر آچکے ہیں بلکہ وہ اس متاثرہ نوجوان کو ڈرا دھمکا کر مقدمہ واپس لینے پر زور بھی ڈال رہے ہیں

 

اسی حوالے سے انہوں نے سلطان نامی ایک گواہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کو جان سے مارنے کی بھی کوشش کی متاثرہ نوجوان دانش نے اس موقعے پر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو انصاف دلایا جاۓ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان غنڈوں سے تحفظ بھی فراہم کیا جاۓ

دانش اور اس جیسے سینکڑوں متاثرہ نوجوان جو اس کیس کی نزاکت کے سبب میڈیا کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں ایسے لوگوں کو انصاف دلانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو زینب اور اس جیسی کئی معصوم بچیاں ایسے وحشی درندوں کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی

To Top