کراچی کے تمام شہری وضو کرنے کے سبب ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ڈاکٹرز نے وارننگ جاری کر دی - Parhloکراچی کے تمام شہری وضو کرنے کے سبب ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ڈاکٹرز نے وارننگ جاری کر دی

کراچی کے تمام شہری وضو کرنے کے سبب ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ڈاکٹرز نے وارننگ جاری کر دی

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں کی آب و ہوا مرطوب ہے سمندر کے کنارے آباد اس شہر میں تیوی سے بڑھتی ہوغی آبادی اور آلودگی کے سبب اس کے موسم میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے مرطوب آب و ہوا کے اس شہر میں جہاں کا موسم معتدل ہوتا تھا شدید گرم ہوتا جا رہا ہے

جس طرح آب و ہوا میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے اسی طرح مختلف بیماریاں بھی موسم کی اس شدت کے سبب شدید ترین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے گزشتہ سالوں میں ڈینگی بخار اور چکن گو نیا نامی اس بیماری نے وبائي صورت اختیار کر کے اس شہر کے لوگوں کو کافی عرصے تک شدید اذیت میں مبتلا رکھا

اسی طر ح ایک اور پرسرار بیماری بھی کراچی کے شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیۓ اس شدید گرمی کے موسم میں آن پہنچی ہے اس بیماری کا نام نگلیریا ہے جو کہ دماغ کو کھانے والا امیبا، نیگلیریا فولیری کے سبب ہوتی ہے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس بیماری سے دو ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں

جن میں سے ایک چالیس سالہ مرد جن کا تعلق کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ہے اور اس کے بعد دوسری ہلاکت دسویں جماعت کی ایک طالبہ کی ہوئی جس کا تعلق نارتھ ناظم آباد کے علاقے سے ہے

نیگلیریا کے حوالے سے کام کرنے والے گروپ کے سربراہ ڈاکٹر ظفر مہدی نے امکان ظاہر کیا کہ لڑکی رمضان میں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے وضو کرتی ہوگی جس کی وجہ سے یہ جراثیم اس کی ناک کے ذریعے داخل ہوگیا۔

یہ ایک خطرناک وائرس ہے، جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوجاتا ہے اور دماغ متاثر کرنا شروع کردیتا ہے، اس کی علاماتیں سات دن میں ظاہر ہوتی ہے، جو گردن توڑ بخار سے ملتی جلتی ہیں، سرمیں تیز درد ہونا، الٹیاں یا متلی آنا ، گردن اکڑ جانا اور جسم میں جھٹکے لگنا اس کی واضح علامات ہیں

اس بیماری سے بچاؤ کے لیۓ یہ لازم ہے کہ پانی کے اندر کلورین کی ایک مقررہ مقدار لازمی طور پر شامل کی جاۓ مگر ڈاکٹر ظفر مہدی کےمطابق کراچی کے مختلف علاقوں کے پانی کے نمونوں کی جانچ سےیہ پتہ چلا ہے کہ اس میں کلورین کی مقررہ مقدار موجود نہیں ہے ۔لہذا کراچی کے اس شدید گرمی کے موسم میں اس واؤرس اک افزائش میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے

اس وجہ سے جو لوگ وضو کے دوران ناک کے اندر پانی ڈالتے ہیں اس پانی کے ذریعے یہ وائرس دماغ میں داخل ہو جاتا ہے اور وماغ کو چاٹ لیتا ہے جس سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے اب تک اس بیماری کا کوئی علا ج دریافت نہیں ہو سکا ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر مہدی کا کہنا ہے کہ وضو کے دوران خصوصا ناک میں ڈالے جانے والا پانی ابال کر استعمال کریں

To Top