کراچی کے ٹارگٹ کلر کی آپ بیتی: سچ یا جھوٹ؟

کراچی کے ٹارگٹ کلر کی آپ بیتی: سچ یا جھوٹ؟

پاکستان کے قیام کے وقت میرے دادا جب کراچی آئے تو پی آئی بی کالونی ہی وہ علاقہ تھا جس نے تمام مہاجرین کو پناہ دی ۔ میں پاکستان میں پیدا ہونے والی اپنے خاندان کی دوسری نسل سے تھا ۔ میرے والد نے میرا نام وسیم رکھا تھا ۔مگر میری کم ذہنی کے سبب سب مجھے “متو” کہ کر پکارتے تھے ابتدائی تعلیم کا آغاز محلے کے ہی ایک اسکول سے کیا اسکول والوں نے بھی میری کم ذہنی اور بہتی ناک کے سبب مجھے “متو” کہہ کر ہی پکارنا شروع کر دیا اور میں بھول ہی گیا کہ میں وسیم ہوں۔

کبھی فیل اور کبھی پاس ہو کر اسکول کا زمانہ گزرنے لگا، جب نویں جماعت میں آیا تو تھوڑا شعور آیا ،اردگرد نظر دوڑائی تو زندگی میں پہلی بار اپنے والد کو معاشی طور پر آسودہ دیکھا ۔میرے والد نے اردگرد کے سبھی لوگوں کی طرح مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا ہاتھ الطاف بھائی کے ہاتھ میں دے دیا۔ میں اور میری بہن طلبہ تنظیم کے سرگرم کارکن بن گۓ ۔ ہماری ذمہ داری جلسوں کے انتطامات سنبھالنا تھا ۔ اس وقت این سی سی کا یونیفارم پہن کرزندگی میں مجھے پہلی بار اپنا آپ بہت معتبر لگا۔

01

Source: blogs.tribune.com.pk

والد صاحب نے گھر ہی میں مشینیں لگا کر پرزے بنانے کی ایک چھوٹی موٹی فیکٹری لگا لی ، اس کے لۓ سرمایہ کہاں سے آیا یہ سوچنے کا نہ میرے پاس شعور تھا نہ وقت۔ایسے ہی اسکول جانے کے بعد کا وقت جلسے جلوسوں کے انتظامات میں گزرنے لگا۔
محسوس ہوا کہ پاکستان بنانے والوں کے ساتھ پاکستاں میں ہی ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور درحقیقت کراچی کے تمام اہم پیشوں پر سرحد سے آۓ ہوئے پٹھانوں نے قبضہ کر رکھا ہے،لہذا فطری طور پر ان سے نفرت کا احساس جاگتا گیا۔

ایک دن جلسے سے پہلے کے انتظامات کے دوران پہلی بار میٹنگ میں بتایا گیا کہ کچھ پٹھان تنظیمیں ہمارے جلسے کو درہم برہم کرنا چاہتی ہیں لہذا سیکیورٹی کے پیش نظر ہمیں اسلحہ دیا گیا ہے ۔ پہلی بار پستول ہاتھ میں لینے پر میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ میری بربادی کی جانب پہلا قدم ہے

02

Source: lubpak.com

اس وقت وہ معصوم ‘متو’ نہ جانے کہاں جا کے بیٹھ گیا ہر جانب وسیم بھائی ،وسیم بھائی سنائی دے رہا تھا ۔اور پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے علاقے سے سب پٹھان اہل محلہ کو ڈرا دھمکا کے نکالا وہ لوگ اپنے مکانات اونے پونے بیچ کر علاقہ چھوڑ گۓ ۔اس کے بعد ذمہ داری بڑھ گئی اب علاقے کی گشتی نگرانی میری ذمہ داری ٹھہری ۔ اسی دوران میں نے کئی پٹھانوں کو ذیادہ بہادری دکھانے پر زندگی سے محروم کیا ۔
ہمارے بڑوں کے مطالبے بڑھتے گئے اور ہم ان لوگوں کو جو ہمارے حقوق غضب کیئے بیٹھے تھے قتل کرتے گئے

پتہ ہی نہ چلا کب وسیم عرف متو ایک ٹارگٹ کلر بن گیا اس وقت لگتا تھا ہم اپنی قوم کے لۓ جہاد کر رہے ہیں ،ہماری آنکھوں ، ہمارے کانوں ہمارے محسوسات پر ایک پردہ چڑھا دیا گیا بدلے میں ہمارا مکان تین منزلہ ہو گیا میری بہن کی شادی بھی ہمارے ہی ایک ساتھی کے ساتھ ہو گئی میری بھی شادی ہو گئی اور پھر خدا نے ایک بیٹے اور بیٹی سے بھی نواز دیا ۔تعلیم کا سلسلہ جو میٹرک کے بعد ٹوٹا پھر کبھی نہ جڑ سکا۔

ایک دن مجھے حکم ملا کہ ہمارے کچھ ساتھی دوسرے لوگوں کے ہاتھوں بک گئے ہیں لہذا ان کو سبق سکھانا ہے ۔جب نام پتہ چلے تو پیروں تلے زمین نکل گئی۔ کوئی بھائی کیسے اپنے ہی ہاتھوں اپنی بہن کے سہاگ کو آگ لگا سکتا ہے؟ جب انکار کیا تو سخت لعن طعن کا سامنا کرنا پڑامگر اس سب کے باوجود خود کو اس کام کے لئے تیار نہ کر پایا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میری بہن کے سر سے چادر میرے جیسے ہی کسی اور نے چھین لی۔

وہ دن اور آج کا دن میں نے گھر چھوڑ دیا، شہر چھوڑ دیا آج ٹی وی پر اپنے کچھ پرانے ساتھی میری تصویر کے ساتھ پریس کلب پر مظاہرہ کرتے نظر آۓکہ مجھے بازیاب کروایا جائے
اور میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میرے بازیاب ہونے کے بعد میرے ساتھ بھی وہی ہو گا جو میرے بہنوئی کے ساتھ ہوا؟؟؟

To Top