لوگ ہمیں کسبی ، ٹیکسی یا طوائف کیوں کہتے ہیں

لوگ ہمیں کسبی ، ٹیکسی یا طوائف کیوں کہتے ہیں

میں ایک پیشہ ور عورت ہوں مجھے کوئی کسبی پکارتا ہے کوئی رنڈی اور کوئی ٹیکسی میرا پیشہ جسم فروشی ہے ۔میری ہر رات گھر سے باہر گزرتی ہے ۔میرا پالا رنگ رنگ کے مردوں سے پڑتا ہے میرے نصیب میں عزت کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے مجھے تحقیر کی نظر سے دیکھنے والے لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ میں ایک خراب عورت ہوں انہوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں ماں کی کوکھ سے تو خراب نہ تھی مجھے خراب کس نے کیا ۔


میرا بھی ایک گھر تھا جہاں میں اپنے ماں باپ اور تین چھوٹی بہنوں کے ساتھ رہتی تھی میرے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور تھے زندگی بہت آسائش کے ساتھ نہیں تو آرام کے ساتھ ضرور گزر رہی تھی ۔ صبح ہوتے ہی سب بہنیں ماں باپ کی دعاؤں کے ساۓ میں اسکول جاتی تھیں میرے ماں باپ کو ایک بیٹے کی خواہش ضرور  تھی مگر اس خواہش میں کبھی انہوں نے ہم بہنوں کی حق تلفی نہ کی تھی میں سب سے بڑی تھی ۔

میٹرک کے امتحانات سر پر تھے اور میں ہر بار کی طرح اس بار بھی اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیۓ سخت ترین محنت کر رہی تھی اس دن اسکول سے واپسی پر خبر ملی کہ میرے والد کو ڈاکوؤں نے ٹیکسی چھینتے ہوۓ گولی مار کو ہلاک کر دیا لوگوں کے لیۓ تو یہ ایک خبر یا ایک حادثہ تھا مگر ہمارے گھر کے لیۓ یہ بربادی کا آغاز تھا ۔

میری ماں ایک خوبصورت مگر غیر تعلیم یافتہ عورت تھی ۔اس نے ابو کے انتقال کے بعد زندگی میں پہلی بار گھر سے باہر پیر نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ کراۓ کے گھر اور ہماری تعلیم کے اخراجات کی تکمیل میری ماں کے لیۓ ایک بہت مشکل سوال تھے جن کے جواب ڈھونڈنے کے لیۓ میری ماں نے ایک آسان راستہ چنا ۔

انہوں نے اپنی خوبصورتی کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا جب عورت بکنے کو تیار ہو تو خریداروں کی کمی نہیں ہوتی ہے ان کی جانب بڑھنے والے ہاتھ اپنی خواہشات کی تکمیل کے بدلے ان کے دامن میں رقم ڈالنے لگے جس سے بہت آسودگی کے ساتھ تو نہیں مگر ہمارے گھر کی گزر بسر آسانی سے ہونے لگی ۔

جب مجھ سے اسکول یا محلے والے پوچھتے کہ تمھاری ماں کیا کرتی ہے تو میں رٹا رٹایا جواب دے دیتی کہ میری ماں ایک گارمنٹ فیکٹری میں رات کی شفٹ میں نوکری کرتی ہے مگر لوگ اندھے نہ تھے ان کو ہماری آسودگی دیکھ کر سب سمجھ آرہا تھا مگر میری ماں کا یہ کہنا تھا کہ جب ہمیں کوئی روٹی نہیں دے سکتا تو ہم ان کی باتوں کی پروا کیوں کریں ۔

ہم نے پرانا محلہ چھوڑ دیا تھا ۔ امی نے میرے رشتے کے لۓ تگ و دو شروع کر دی تھی ۔وہ چاہتی تھیں کہ جلد از جلد ہم بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے گناہوں کا سایہ ہماری اگلی زندگی کو بھی تاریک کر دے گا ۔ میری امی نے رشتے والی کسی خاتون کے کہنے پر میری چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیا ۔

میرے شوہر ایک شریف انسان تھے کسی پرائیویٹ فرم میں ملازم تھے ان کو بھی یہی بتایا گیا تھا کہ میری ماں ایک فیکٹری میں ملازم ہیں ۔شادی کے شروع کے دن بہت حسین تھے وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے مگر پھر آہستہ آہستہ ان کے کانوں تک بھی میری ماں کے پیشہ کرنے کی بات پہنچنے لگی ۔

جب انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تو میں ان سے کچھ نہ چھپا سکی میں نے ان کو ابو کے مرنے کے بعد کے حالات اور میری ماں کے گھر سے باہر نکلنے کی ساری وجوہات بتا دیں مگر وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوۓ کہ ایک کسبی عورت کی بیٹیاں شریف کیسے ہو سکتی ہیں

نتیجے کے طور پر انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں حاملہ حالت میں اپنی ماں کے گھر آکر بیٹھ گئي کچھ دنوں کے بعد جب میں نے ایک بیٹی کو جنم دیا تو اس کے ساتھ میرا طلاق نامہ اور یہ الزام کہ یہ بیٹی میری نہیں ہے مجھے تھما دیا گیا ۔شروع شروع میں میری ماں نے میرے اخراجات اٹھاۓ مگر اب ان کی عمر نے ڈھلنا شروع کر دیا تھا ۔اور پیشہ ور عورتوں میں ڈھلتی عمر کی عورت پیشہ کرتی نہیں بلکہ کرواتی ہے ۔

اب گھر کے بہنوں کے اپنی بیٹی کے اور اپنی ماں کے اخراجات پورے کرنے کی باری میری تھی میرے پاس اس کے علاوہ میری ماں نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا ۔ لہذا مجھے بھی وہی سب کچھ کرنا پڑا جو میری ماں کرتی تھی ۔ میری بہنوں نے بھی اب رشتوں کی آس چھوڑ دی ہے ۔وہ جانتی ہیں کہ ان کا بھی مستقبل یہی ہے ۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ ہمیں تو جسم فروش،کسبی ۔رنڈی  جیسے ناموں سے پکارتے ہیں مگر جو ہمارے خریدار ہوتے ہیں ان کو کیوں کسی نام سے نہیں پکارا جاتا ۔اگر جسم بیچنا ایک برا دھندہ ہے اور جسم بیچنے والیاں دن کی روشنی میں بھی عزت کی حقدار نہیں تو پھر جسم خریدنے والے دن کے اجالوں میں کیسے عزت دار بن بیٹھتے ہیں ؟

To Top