ایک کنول کے پھول کی کیچڑ میں کھلنے کی کہانی

ایک کنول کے پھول کی کیچڑ میں کھلنے کی کہانی

سر پر سفید ٹوپی پہنے بغل میں سپارہ دباۓ میں جب بھی مسجد کے ساتھ والے مدرسے کی جانب روانہ ہوتا سارے راستے لوگ میری جانب معنی خیز نظروں سے دیکھتے ،اشارے کرتے اور کئی ایک تو میرے گال اپنے ہاتھوں میں لے کر کھینچ کھینچ کر پیار کرتے ۔

جیسے ہی مدرسے میں داخل ہوتا مولوی صاحب ایک بڑي سی کھنکھار کے ساتھ اپنے قریب کی جگہ میرے لیۓ خالی کر دیتے اور وقفے وقفے سےپڑھائی کے دوران میری کمر میرے چہرے میری ٹانگوں اور نہ جانے کہاں کہاں ہاتھ پھیرتے رہتے ۔

جب انہیں مجھ پر بہت غصہ یا پیار آتا دونوں صورتوں میں وہ میرا نام پکارنے کے بجاۓ مجھے گشتی کے ۔۔۔۔۔ کہہ کر پکارتے ۔ میں نے اکثر اپنی ماں سے بھی بارہا یہ پوچھا ہے کہ یہ گشتی کیا ہوتی ہے اور لوگ مجھے گشتی کے۔۔۔۔ کہہ کر کیوں پکارتے ہیں

میری امی مجھے کہا کرتی تھیں کہ میں بہت خوبصورت ہوں میری نیلی آنکھوں جیسی آنکھیں کسی کے پاس نہیں میری جیسے سفید رنگت کسی کے پاس نہیں میرے جیسے سنہرے بال کسی اور کے نہیں اسی وجہ سے لوگ حسد کے مارے مجھے اس نام سے پکارتے ہیں

یہی وجہ تھی کہ اب جب مجھے کوئی گشتی کے ۔۔۔ سے پکارتا تو میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا میری چال میں ایک فخر شامل ہو جاتا تھا ۔ میرے گھر میں میری ماں اور نانی کے علاوہ اور کوئی نہ تھا ۔میری ماں ایک خوبصورت عورت تھی ۔

وہ بہت بن سنور کر بھی رہتی تھی ہمارے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔کھانے کی ہر نعمت پہننے کو بہترین لباس مگر اس گھر میں میرے لیۓ بہت پابندیاں تھیں مغرب کے بعد سے مجھے اپنے کمرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی

میری چوکیداری کے لیۓ ایک ملازمہ ہوتی تھی اور وہی مجھے صبح صبح جگا کر مدرسے بھیج دیا کرتی تھی جہاں میں سہہ پہر تک رہتا تھا میرا کام پڑھنے کے ساتھ ساتھ مولوی صاحب کے ساتھ رہنا بھی ہوتا تھا کیوںکہ یہی میری ماں کی جانب سے مولوی صاحب کے لیۓ ہدایت تھی

دوپہر کے بعد مولوی صاحب اور میں جب اکیلے رہ جاتے تو مولوی صاحب مجھے اپنے ساتھ سونے کے کمرے میں لے جاتے تھے اور دروازہ بند کرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ لٹا لیتے تھے اس کے بعد اس بند دروازے کے پیچھے وہ میرے ساتھ جو جو کچھ کرتے مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا مگر میں ان کو روک نہیں سکتا تھا کیوںکہ ٹوکنے پر پھر مجھے وہ گشتی کا ۔۔ کہتے تھے ۔

اس دن مولوی صاحب کسی کام سے مدرسے سےدوپہر سے پہلے نکل گۓ تھے مگر چھوٹے قاری صاحب کو یہ کہہ کر نکلے تھے کہ مجھے دوپہر اپنے پاس ہی رکھوں اور کہیں جانے نہ دوں مگر چھوٹے قاری صاحب کی جیسےہی آنکھ لگی میں گھر کی جانب بھاگا

گھر پہنچتے ہی میں اپنی ماں گے کمرے کی جانب بھاگا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔ مگر اندر میں نے مولوی صاحب اور اپنی ماں کو بے لباسی کی جس حالت میں دیکھا اس نے مجھے ایک ہی پل میں گشتی کے ۔۔۔ کا مطلب سمجھا دیا ۔

مجھے پتہ چل گیا کہ گشتی کا بچہ کبھی بھی اکیلے گشتی پیدا نہیں کر سکتی ا س کے لیۓ اسے لازمی طور پر کسی مولوی یا شریف آدمی کی ضرورت ہوتی ہے

To Top