بیس روپے میں جنسی زیادتی کی ویڈیو حاصل کریں ۔ہولناک انکشافات سامنے آگۓ

بیس روپے میں جنسی زیادتی کی ویڈیو حاصل کریں ۔ہولناک انکشافات سامنے آگۓ

انسانیت کی زبان میں سب سے بڑا جرم کون سا ہوتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جان سے مار ڈالنا سب سے بڑا جرم ہے مگر میرے نزدیکجنسی زیادتی کر کے  جیتے جی کسی کو مار ڈالنا ایک بار جان سے مار ڈالنے سے بڑا جرم ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے دنیا کے ہر معاشرے میں ریپ یا جنسی زیادتی  ایک بہت ہی بڑا اور انسانیت سوز جرم مانا جاتا ہے

ماضی میں اکا دکا واقعات سننے کو ملتے تھے جس میں کسی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی  کا واقعہ سننے کو ملتا تھا تو گھر کی بڑی بوڑھیاں ہفتوں اس واقعے کو یاد کر کر کے اسغفار پڑھتی رہتی تھیں ان واقعات میں کبھی اگر گینگ ریپ کا واقعہ سننے کو مل جاتا تو روح تک کانپ جاتی تھی مگر اب لوگوں کے نزدیک کسی لڑکی کے ساتھ جنسی زيادتی  کرنا بہت ہی آوٹ آف فیشن کام ہو گیا ہے

اب اس جرم نے ایک باقاعدہ دھندے کی شکل اختیار کر لی ہےالجزیرہ ٹی وی کی ایک ڈاکیومینٹری کے مطابق پڑوسی ملک ہندوستانکے علاقے اتر پردیش میں صرف بیس روپے سے لے کر دو سو روپے تک خرچ کر کے آپ کسی بھی لڑکی کی ریپ ہوتی ہوئی ویڈیو اپنے اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کر واسکتے ہیں اور بیس روپے میں ریپ کی یہ ویڈیو بار بار دیکھ سکتے ہیں جس میں ریپ کرنے والے اور ریپ کا شکار بننے والی لڑکی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

الجزیرہ ٹی وی کے نمائندے کے مطابق علاقے کے اندر ایسی بہت ساری ویڈیوز اور ڈاون لوڈنگ کی دکانیں موجود ہیں جہاں پر گاؤں کا کوئی بھی بندہ انتہائی معمولی رقم کے عوض یہ ویڈیوز اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرواسکتا ہے ۔ جب ان فلموں کو دیکھنے والے ایک فرد سے سوال کیا گیا کہ آخر آپ لوگ ایسی فلمیں کیوں دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کام ٹھیک نہیں ہے مگر اس کو دیکھ کر ان کو دلی سکون حاصل ہوتا ہے

یہ فلمیں جن کا دورانیہ تیس سیکنڈ سے لے کر پانچ منٹ تک ہوتا ہے درحقیقت ریپ ہونے والی لڑکی کو بلیک میل کرنے کی نیت سے بنائی جاتی ہے تاکہ اس فلم کی موجودگی کے سبب وہ کسی کو بھی یہ نہ بتا سکے کہ اس کا ریپ کس نے کیا ہے منہ کھولنے کی قیمت کے طور پر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چلانے کی دھمکی دی جاتی ہے ۔ ویڈیو کی قیمت میں اس کے دورانیۓ میں اضافے کے ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔

ہندوستان میں اس صنعت کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جانب تو ہندوستان کی پوری سول سوسائٹی ایک آواں ہو کر جمں کشمیر میں مندر میں جسمانی زیادتی کا شکار ہونے والی آصفہ کے حق میں آوازیں اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف پورن ویب سائٹس میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ویڈیو کی سرچ میں آصفہ سے سے زیادہ سرچ کی جا رہی ہے ۔

پاکستان میں معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات اور اس طرح کی ویڈیو بنانے والے لوگوں کی گرفتاری اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ اس زہر کا شکار صرف ہندوستان والے ہی نہیں بلکہ یہ گھٹیا کھیل پاکستان میں بھی کھیلا جا رہا ہے مگر ہندوستان کی طرح یہاں کے حکام نے بھی اس سارے معاملے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے

 

To Top