کیا ایک لڑکی شادی سے پہلے حلال طریقے سے اپنے جنسی تقاضے پورے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی؟

کیا ایک لڑکی شادی سے پہلے حلال طریقے سے اپنے جنسی تقاضے پورے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی؟

پاکستان کے بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں پر بچوں کی بچپن ہی میں منگنی کر دینے کا رواج موجود ہے ۔ اس رشتے کے پیش نظر بعض اوقات والدین کی یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو کم عمری ہی میں ایسے بندھن میں باندھ دیں تاکہ بڑے ہو کر ان کی سوچ ادھر ادھر نہ بھٹک سکے ۔ اور بعض اوقات اس کے پیش نظر دیگر کچھ عوامل ہوتے ہیں جن میں زمینوں جائدادوں کے معاملات شامل ہیں ۔

میرا تعلق آزاد کشمیر کی حسین وادیوں سے ہے جہاں کی خوبصورتی ، رکھ رکھاؤ میزبانی اور قدامت پرستی کے متعلق سب ہی جانتے ہیں ۔آزاد کشمیر میں میرا ننھیال تھا ۔ اس علاقے کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اس علاقے کے مرد زيادہ تر روز گار کے سلسلے میں ملک سے باہر مقیم ہوتے ہیں ۔

اس بار میرا اپنے ننھیال اپنی کزن کی شادی کی تقریب کے سلسلے میں آنا ہوا تھا ۔ جب دعوت نامے بانٹنے کی باری آئی تو میرے نانا نے ایک خاندان کے لوگوں کو شادی کے دعوت نامے دینے سے سختی سے منع کر دیا میرے لیۓ یہ بات بہت حیران کن تھی ۔ جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو میری کزن نے ایک بہت حیرت انگیز کہانی سنائی ۔

میری کزن کے مطابق اس خاندان کے بزرگوں نے اپنے بچوں کا رشتہ بچپن ہی میں طے کر دیا تھا ۔ اس کے بعد کمانے کے لیۓ وہ لڑکا باہر چلا گیا ۔ جب وہ لڑکا باہر جانے لگا تب اس لڑکی کی عمر سولہ سال تھی خاندان کے کچھ لوگوں نے تقاضا بھی کیا کہ جانے سے پہلے شادی کر دی جاۓ مگر لڑکے کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ جب یہ پیسہ کما کر لے آۓ گا تو دھوم دھام سے شادی کی جاۓ گی۔

اس دوران دس سالوں کا طویل عرصہ گزر گیا لڑکا واپس نہ آیا اس دوران ان کے مالی حالات بھی ٹھیک ہو گۓ مگر لڑکے نے بار بار تقاضوں کے باوجود واپسی کا ارادہ ظاہر نہ کیا ۔ اس دوران لڑکی نے اپنی ماں سے درخواست کی کہ اس کی عمر شادی کی ہے اس کے کچھ جسمانی تقاضے ہیں لہذا اگر وہ لڑکا نہیں آتا تو کسی غریب متوسط آمدنی والے کے ساتھ ہی اس کی شادی کروا دی جاۓ تاکہ وہ کسی گناہ کی مرتکب ہونے سے بچ سکے ۔

اس کے گھر والوں کو اس لڑکی کی یہ بات اتنی بری اور بے شرمی کی لگی کہ انہوں نے اس لڑکی سے بات چیت ختم کر دی اور اس لڑکی سے پورے گھر والوں نے بات چیت بند کر دی اور اس کو نوکرانیوں والے کاموں پر لگا دیا تاکہ جسمانی طور پر یہ اتنی تھک جاۓ کہ اس کے دماغ سے جنسی بھوک کا بخار اتر جاۓ ۔

اسی دوران گھر سے باہر اس کی ملاقات ایک غریب مزدور سے ہوئي ایک دو ملاقاتوں کے بعد دونوں نے کسی بھی گناہ سے بچنے کے لیۓ شادی کا فیصلہ کیا اور دوسرے شہر بھاگ کر نکاح کر لیا ۔ لڑکی کے گھر والوں کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی نہ کسی طرح اس لڑکی کو تلاش کر کے پولیس کے ذریعے لڑکی کو بازیاب کروایا اور اس کے شوہر کو پیسے کے زور پر جھوٹے الزامات لگوا کر جیل میں قید کروا دیا ۔

جب لڑکی کے بھاگنے کی خبر اس کے سابقہ منگیتر کو ہوئی تو وہ اپنی بیوی اور پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پاکستان آگیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرنا نہیں چاہتا تھا اور انکار کی اس میں ہمت نہ تھی تبھی اس نےباہر ہی شادی کر لی تھی ۔ جب لوگوں نے اس سے اس کی منگیتر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے سے منع کر دیا ۔

 

لڑکی کے واپس آنے کے بعد پوری برادری نے اس خاندان کا بائکاٹ کر دیا اسی وجہ سے اس لڑکی کے گھر والے اس سے جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں ۔ اس کا شوہر جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس لڑکی نے مجبورا جنسی تقاضے پورے کرنے کے لیۓ جس حلال راستے کا انتخاب کیا اس میں کیا خرابی تھی اگر آپ کو سمجھ میں آۓ تو مجھے ضرور بتائیۓ گا

To Top