ایک شادی شدہ عورت کی کہانی جس نے جنس کی تبدیلی کا مشکل ترین سفر طے کیا

میں نے جب اپنے ہونے کا شعور پایا تو وہ میرے لڑکپن کا دور تھا ۔میری امی نے مجھے اسکول بھیجتے ہوۓ میرے بل سنوارتے ہوۓ کہا کہ تم جب اسکول سے آو گی تو میں تمھارے لیۓ نئی گڑیا لے کر آؤں گی اس پل میں نے ان کی بات کاٹ کر کہا تھا کہ مجھے گڑیا اچھی نہیں لگتی مجھے تو بیٹ اور بال چاہیۓ اس پل نہ تو مجھے یہ احساس تھا کہ اس بات کا کیا مطلب ہے اور نہ میری غیر تعلیم یافتہ ماں اس کو سمجھ پائی ۔

اس کے بعد یہ تضاد میری زندگی کا المیہ بن گیا ۔مجھے ہمیشہ وہی پسند آتا جو لڑکوں کو پسند ہوتا میری خواہش ہوتی کہ میں وہ لباس پہنوں جو میرے بھائی پہنتے ہیں میں وہی کھیل کھیلوں جو میری گلی کے لڑکے کھیلتے ہیں اور میرے دوست بھی لڑکیوں کے بجاۓ لڑکے ہی بنتے ۔


مجھے منہ بسورتی لڑکیاں بہت عجیب لگتیں میں سوچتی کہ وہ میرے جیسی مضبوط کیوں نہیں ہو جاتیں اسی شش و پنج میں میں نے لڑکپن کو خیر آباد کہہ کر جوانی میں قدم رکھ دیا ۔ گھر والوں کے دباؤ کے تحت میں نے اگرچہ دوپٹہ پہننا بھی شروع کر دیا اور بلوغت کی منزل پر بھی قدم رکھ لیا مگر میں فطرتا اب بھی خود کو ایک لڑکا ہی تصور کرتی تھی ۔

مجھے لڑکیوں میں اب جو کشش محسوس ہوتی صنف مخالف میں اس کشش کو محسوس کرنے سے قاصر تھی ۔مگر میرے گھر والوں نے بھی شکر کا سانس لیا کہ اب میں نے لڑکیوں سے دوستی شروع کر دی تھی مگر اس بات سے صرف میں ہی واقف تھی کہ میرا لڑکیوں کی جانب یہ میلان دوستی نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے کچھ زيادہ تھا ۔

لوگ اس کو ہم جنس پرستی سے تعبیر کرتے تھے مگر میں خود اس بات سے ناواقف تھی کہ یہ کیا ہے اسی دوران میری شادی بھی ہو گئی اور اللہ نے مجھے ایک بیٹے سے نواز دیا اور میں اپنے شوہر کے ساتھ بیرون ملک چلی گئی ۔

یہاں آکر مجھ پر معلومات کا ایک نیا در وا ہو گیا اس کے مطابق مجھے پتہ چلا کہ درحقیقت میرا جسم تو زنانہ ہے مگر میری روح مردانہ ہے اسی سبب میں اس زنانہ جسم کے ساتھ کسی کل چین نہیں پا رہی ہوںاور دنیا میں میں تنہا نہیں تھی بلکہ میرے جیسے بہت سارے لوگ زندگی کے اس دوہرے عزاب میں مبتلا ہیں

ایسے لوگوں کی اس کمزوری کا واحد علاج جنس کی تبدیلی کا راستہ ہے جس سے وہ وہی جسم حاصل کر سکتے ہیں جیسی ان کی روح ہے اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بہت ساری وجوہات کی بنیاد پر بہت عام نہیں ہے مگر دنیا کے کئی اسلامی ممالک موجود ہیں جہاں اس قسم کی تبدیلی کو نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ جنس کی تبدیلی کے آپریشن بھی کیۓ جاتے ہیں

میرے اندر کی نا آسودگی بڑھتی جا رہی تھی جس کا اثر میری ازدواجی زندگی پر بھی پڑ رہا تھا ۔تنگ آکر میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میں اپنے بیٹے کے ساتھ ایک غیر ملک میں تنہا رہ گئی میں نے واپس جانے کے بجاۓ اسی ملک میں رہائش کا فیصلہ کیا اور جنس کی تبدیلی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کر دی ۔

۔مگر اس سب کے لیۓ خطیر رقم ،وقت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں نے اس عمل سے گزرنے کا فیصلہ کیا کیوںکہ میں اس دو رنگی زندگی سے بہت تھک چکی تھی ۔اور جب مجھے اس حوالے سے مذہبی تحفظ بھی حاصل ہو گیا تو میں نے اس عمل سے گزرنے کا فیصلہ کر لیا

پھر میں نے کئی سال تک کی معلومات اور پیسہ جمع کرنے کے بعد آپریشن کے عمل سے گزرنے کا آغاز کیا یہ عمل بہت تکلیف دہ تھا ۔مگر اس ساری تکالیف کو برداشت کرتے ہوۓ مجھے خوشی تھی کہ میں اس زندگی کو حاصل کر پاؤں گی جو مجھے روحانی اذیت سے نجات دے گی ۔

میری اذیت کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو کہ خود اس طرح کے حالات کا شکار ہو ۔ دنیا کی نظر میں میں ایک عورت ایک ماں تھی جب کہ اندر سے میں ایک مکمل مرد تھا ۔میں نے اس حوالے سے نفسیاتی معالجوں سے بھی رجوع کیا مگر ان کے پاس میری اس دو رنگی کا کوئی علاج نہ تھا

اب میں آپریشن کے بعد ایک مکمل مرد میں تبدیل ہو چکا ہوں مغربی معاشرے اور میرے بیٹے نے میرے اس نۓ روپ کو اپنا لیا ہے مگر میرے خاندان والے جو پاکستان میں ہیں اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں آپ ہی بتائیں کیا میں نے غلط کیا ؟

Join Group