جھنگ میں بہن کو ڈاکٹر بننے سے روکنے کے لۓ بھائی کا ظلم

جھنگ میں بہن کو ڈاکٹر بننے سے روکنے کے لۓ بھائی کا ظلم

ہمارے معاشرے کا یہ المیہ رہا ہے کہ ایک لڑکی کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے صرف اس کے ماں باپ ہی نہیں ہوتے بلکہ تمام رشتے دار اس کے ٹھیکیدار بن کر فیصلے کرتے ہیں۔ معاملہ اس کی تعلیم کا ہو یا شادی کا اس کے علاوہ سب کی راۓ کو نہ صرف اہمیت دی جاتی ہے ۔ بلکہ اس راۓ کو بزور طاقت مسلط بھی کیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ جھنگ شہر کی رہائشی سترہ سالہ وردہ کے ساتھ پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق وردہ نے ایف ایس سی کے امتحانات میں 1001 نمبر حاصل کۓ ۔ اس کے بعد چونکہ وہ میرٹ پر تھی۔ اس لۓ اس کے میڈیکل کالج میں داخلے کے امکانات روشن تھے ۔ مگر یہ بات اس کے بھائی کو پسند نہ تھی کہ وہ میڈیکل کالج میں لڑکوں کے ساتھ مخلوط تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرے ۔

Jab ap ka bhai matric fail ho or galee ka sab sa bhara lafanga ho tab yahe kuch hota Esy beton ko paida hoty he dafna dana b sawab ka kam haiFJMU syd esi he larkion ka soch kar baniya giya hona mamu ko Fjities k sath sympathies han

Posted by Ya mbbs ha mamu on Tuesday, November 7, 2017

تفصیلات کے مطابق جھنگ کی رہائشی نے اس سال ایف ایس سی کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے والد ایک ریٹائر فوجی تھے۔ جو کہ گھر کی گزر بسر اپنی پینشن سے کرتے تھے۔ ان کے وردہ سے بڑے دو بیٹے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اور اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکے تھے۔

جب کہ وردہ  کو پڑھائی کا بہت شوق تھا۔ ایف ایس سی کے امتحانات میں 1001 نمبر حاصل کرنے کے بعد وردہ نے اینٹری ٹیسٹ کی تیاری شروع کر دی تھی۔ مگر اس کے بھائی اس کی میڈیکل کالج میں تعلیم کے خلاف تھے۔

ٹیسٹ سے دو روز قبل وردہ کے بھائی نے اس کو تین گولیاں مار دیں ۔ جن میں سے ایک گولی اس کی کھوپڑی کو چھوتے ہوۓ گزری۔ جس سے اس کی بینائی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسری گولی نے اس کے بازو کی ہڈی توڑ ڈالی۔ اور تیسری گولی نے اس کی آنتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

وردہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اس ظلم کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوۓ کہ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب اور ڈی سے او جھنگ سے اپیل کی ہے کہ اس بچی کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچائيں۔ اور اس کے داخلے کے لۓ خصوصی انتظامات کۓ جائیں۔

جہالت کے اس واقعے نے پسماندہ علاقوں میں زیر تعلیم لڑکیوں کے تعلیم کے مواقعوں پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے ۔ اس ظلم اور جبر کے ماحول کے سبب نہ جانے کتنی لڑکیاں اسی طرح اپنے خوابوں کو توڑ کر ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کا انتخاب اس کے لۓ اس کے باپ ، بھائی یا کسی اور رشتے دار نے کیا ہوتا ہے ۔

To Top