جمائما خان کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو جو کوئی نہیں جانتا

جمائما خان کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو جو کوئی نہیں جانتا

جمائما گولڈ اسمتھ برطانیہ کے ایک بڑے یہودی گھرانے کی اکلوتی بیٹی تھی ۔اس کے اس کے علاوہ دو بھائی بھی تھے جو عمر میں اس سے چھوٹے تھے ۔ اس کے والد برطانیہ کے امیر ترین شخص اور ایک اہم سیاست دان بھ تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کسی بھی تباہ حال ادارے کو صرف ایک دن کے اندر ایک کامیاب ادارے میں بدل سکتے ہیں ۔

گولڈ اسمتھ 1996 میں دنیا کا امیر ترین شخص بن چکا تھا ۔گولڈ اسمتھ کے عالی شان محل لندن امریکہ میکسیکو پیرس غرض دنیا کے تمام اہم شہروں میں پھیلے ہوۓ تھے ۔برطانوی شاہی خاندان کے ولی عہد پرنس چارلس کی بیوی شہزادی ڈیانا گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائما کو اپنی بہن کہا کرتی تھی ۔

اسی سبب جمائما کو برطانیہ میں شہزادی جیسا پروٹوکول حاصل تھا ۔ایک کرکٹ میچ کے دوران جمائما کو پاکستانی کھلاڑی عمران خان پسند آگیا جس کا ذکر اس نے اپنے والد سے بھی کر دیا ۔ اس پر اس کے والد نے اس کو عمران خان سے شادی کی مشروط اجازت دے دی ۔اس میں پہلی شرط یہ تھی کہ جمائما اپنا مذہب تبدیل نہیں کریں گی ۔

اور دوسری شرط یہ تھی کہ جمائما اپنی شہریت تبدیل نہیں کریں گی ۔ اپنے والد کو راضی کرنے کے بعد جمائما نے جب عمران خان سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو عمران خان نے گولڈ اسمتھ کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔ جس پر جمائما نے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رہنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔

مگر اب عمران خان نے اپنے سسر گولڈ اسمتھ کی ناراضگی کی صورت میں شادی سے انکار کر دیا ۔اس موقعے پر شہزادی ڈیانا نے انتہائی اہم کردار ادا کیا اور گولڈ اسمتھ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ جمائما کی عمران خان سے شادی پر نہ صرف تیار ہوگیا ۔بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے جمائما کو نہ صرف مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دے دی بلکہ اسکو پاکستان میں رہنے کی بھی اجازت دے دی ۔

بائیس سالہ جمائما نے 43 سالہ عمران خان سے جب شادی کا ارادہ کیا تو ہر ایک نے ان کی عمر کے اس فرق پر بھی آواز اٹھائی جس پر جمائما نے کان نہیں دھرے اور سولہ مئی 1995 کو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوۓ ۔ 1996 میں جمائما پاکستان آئیں جہاں پاکستانی لباس زیب تن کۓ اپنے شوہر کے ساتھ اس کے شانہ بشانہ ہر جگہ ایک مشرقی بیوی کی طرح ساتھ ساتھ نظر آئیں ۔

شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے لئے جمع کرنے والے فنڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے نئے لگنے والے پودے کو بھی انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ انتہائی محنت سے سینچا ۔اسی سال جمائما خان نے عمران خان کو دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ سلمان کی صورت میں دیا ۔اور اس کے تین سال بعد دوسرے بیٹے قاسم کو بھی جنم دیا ۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ انفرادی حیثیت سے بھی پاکستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لۓ مختلف فلاحی تنظیموں کا حصہ بن گئيں ۔عمران خان شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم سازی میں بہت زیادہ مصروف رہنے لگے ۔دوسری جانب عمران خان کے مخالفین نے جمائما کے یہودی ہونے کا تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔

جس کے سبب جمائما اب تنہائی اور مایوسی کا شکار ہوتی جارہی تھیں ۔ پاکستانی پریس نے اور عمران خان کی سیاسی مخالفین نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر لیں انہوں نے پہلے تو جمائما کی شہریت پر سوال اٹھایا ۔اس کے بعد انہوں نے اس پر اسمگلنگ کے چھوٹے الزام لگاۓ ۔ان تمام باتوں کے سبب عمران خان کی ازدواجی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ۔

ان کا پیار بھرا گھر لوگوں کی سازشوں کے سبب اب بکھرتا جا رہا تھا ۔ ان کی خانگی زندگی بھی اب لوگوں کے درمیان آگئی تھی ۔وہ جو محبت اور خواب لے کر اس ملک میں آئی تھی وہ اب بکھرنے لگے تھے ۔ 2004 میں اس نو سالہ محبت بھرے تعلق کا اختتام کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں کی سازشوں کے سبب ہوا ۔

یہ شادی اس لۓ نہیں ٹوٹی کہ اس محبت کرنے والے جوڑے کے درمیان محبت کم ہوگئی تھی ۔بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم اس محبت کرنے والی لڑکی کی محبت کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوۓ تھے ۔اور ایک نو مسلم لڑکی کے اسلام قبول کرنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بجاۓ اس کو یہودیوں کا ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا سمجھا ۔

To Top