کیا آپ جانتے ہیں جلیلہ حیدر کون ہے ؟ وہ آرمی چیف کو رکشے میں بٹھا کر کہاں گھمانا چاہتی ہے ؟

کیا آپ جانتے ہیں جلیلہ حیدر کون ہے ؟ وہ آرمی چیف کو رکشے میں بٹھا کر کہاں گھمانا چاہتی ہے ؟

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے اندر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ہر تھوڑے دنوں کے بعد کسی نہ کسی احتجاج کی خبر میڈیا کی زینت بن رہی ہے جس میں کبھی اس قوم کے لوگ سخت ترین سردیوں میں خودکش دھماکوں میں شہید ہونے والے اپنے عزیزوں کی لاشیں کوئٹہ کی شدید ترین ٹھنڈ میں احتجاج کر رہے ہوتے ہیں ۔


کبھی مائیں ،بیویاں اور بیٹیاں اپنےگھر کے مردوں کی گمشدگی پر پریس کلب میں بیٹھ کر احتجاج کر رہی ہوتی ہیں اور کبھی  ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد باپ اپنے جوان بیٹوں کے لاشے اٹھاۓ ان کے قاتلوں کی گرفتار کے لیۓ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں ۔

دری فارسی زبان بولنے والے ان افراد کا تعلق اگرچہ وسطی افغانستان سے ہے مگر اب ان کو پاکستان میں اباد ہوۓ کئی نسلیں گزر چکی ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ا س برادری کے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد کوئٹہ میں آباد ہے ۔

اس برادری کو ان کی نسل اور ان کے مسلک کے سبب گزشتہ کچھ دہائيوں سے جس ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی نسل کشی کی جارہی ہے وہ ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیۓ کافی ہے ۔ اسی حوالے سے جب ایک بار پھر کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر کا اغاز ہوا تو اس میں ہزارہ برادری کے معصوموں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ۔

جس پر ہزارہ برادری کی عورتوں نے کوئٹہ کی معروف سماجی رہنما جلیلہ حیدر کی سربراہی میں پریس کلب پر احتجاج کا ایک سلسلہ شروع کیا اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا جس میں اولین مطالبہ شہیدوں کے قاتلوں کی گرفتاری ، ہزارہ برادری کے لوگوں کے تحفظ کے لیۓ عملی اقدامات کا مطالبہ اور گمشدہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ شامل تھا

اس موقعے پر وزیر دا خلہ احسن اقبال نے بھی جب بھوک ہڑتالی خواتین سے ملاقات کی تو انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملے بغیر بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا خواتین کے وفد کی قیادت جلیلہ حیدر کر رہی تھیں جو کہ کوئٹہ میں ماضی میں بھی ہزارہ برادری کے احتجاجی مظاہروں کا مرکزی حصہ رہی ہیں

اس کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جناب قمر الدین باجوہ نے جلیلہ حیدر اور دیگر خواتین سے ملاقات کی جلیلہ حیدر نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بار کوئٹہ کا دورہ ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے کریں ۔ یہاں موجود تین ہزار ان عورتوں سے ملاقات کریں جن کے شوہروں کو ہزارہ برادری کی نسل کشی کے دوران شہید کیا گیا ان بچوں سے ملیں جو اس دوران شہید ہوۓ اس کے بعد اس بات کا فیصلہ خود کریں کہ وہ کون لوگ ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں

کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے

’میں جنرل قمر باجوہ کو اس شہر کی ہر چیک پوسٹ، ہر محلے، ہر گلی کوچے میں رکشے پر لے جاؤں گی اور دکھاؤں گی یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے،`

Posted by BBC URDU on Tuesday, May 1, 2018

آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے بعد جلیلہ حیدر اور دیگر خواتین نے بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا اس کے ساتھ ساتھ ان کی نسل کشی کے حوالے سے ہونے والے واقعات کا چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی سو موٹو لے لیا ہے

ملک کے دو مقتدر اداروں کے سربراہوں کی جانب سے نوٹس لینے کے سبب ہزارہ برادری کو بھی اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ ان کے جوان بیٹوں کے مارے جانے کا سلسلہ رک سکے گا اس حوالے سے تمام حلقے جلیلہ حیدر کے عزم و حوصلے کو سراہا رہےہیں جس کی کوششوں کے سبب ہی یہ ممکن ہو سکا

To Top