عورتوں کو برہنہ کر کے ان کے گردوں کی تبدیلی کا آپریشن کرنے والا جعلی پیر ایسا کیوں کرتا تھا عجیب و غریب انکشاف کر دیا

عورتوں کو برہنہ کر کے ان کے گردوں کی تبدیلی کا آپریشن کرنے والا جعلی پیر ایسا کیوں کرتا تھا عجیب و غریب انکشاف کر دیا

قدیم کہاوت ہے کہ غرض گو دیوانہ ہوتا ہے کچھ لوگوں مجبور لوگوں کی اسی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور لوگوں کی ان مجبوریوں کے بدلے ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ انسانی جان کی قیمت کا تعین دنیا کے کسی خطے میں نہیں کیا جا سکتا جب کسی کا قریبی عزیز کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے اس عزیز کو اس تکلیف سے نجات دلوانے کے لیۓ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔


عام طور پر پاکستان میں ہیپاٹئٹس اور گردے کی بیماریاں عام ہیں جس کے سبب بڑی تعداد میں لوگ گردوں کی خرابی کے سبب ڈائلسس کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو کہ ایک انتہائی تکلیف دہ طرز علاج ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مہنگا بھی ہے جس کے سبب جب غریب لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ اپنی غریبی اور کم علمی کے سبب ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی ٹوٹکے سے اس بیماری سے نجات حاصل کر لیں

اور لوگوں کی یہی مجبوری ہمارے معاشرے میں موجود کئی جعلی پیروں عطائی ڈاکٹروں اور پیروں فقیروں کی دکان چمکانے کا باعث بنتا ہے ۔ ایسے ہی ایک جعلی پیر کراچی میں منگھوپیر کے پہا ڑی علاقوں میں اپنی دکان لگاۓ بیٹھا تھا کہ وہ ان مریضوں کا علاج کرتا ہے جو کہ گردے کی خرابی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

ایسے مریضوں کے علاج کے لیۓ وہ جعلی پیر سب سے پہلے ایک بکرا خریدنے کا اصرار کرتا جو کہ لوگ اسی سے خریدتے اور پھر وہ ایک جعلی آپریشن کے ذریعے ان لوگوں کو یہ تاثر دیتا کہ اس نے ان کا بیمار گردہ نکال کر بکرے کا صحت مند گردہ ان کے اندر لگا دیا ہے اور اب ان کو کسی بھی قسم کے ڈائلسس کی ضرورت نہیں ہے ۔

جعلی پیر یہ عمل نہ صرف مردوں کے ساتھ کرتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی برہنہ کر کے ان کا بھی آپریشن اسی طریقے سے کرتا اور مجبور لوگ اس کو اپنا مسیحا سمجھتے ہوۓ نہ صرف بھاری رقم کے عوض اس سے بکرا خریدتے بلکہ اس کے کہنے پر ڈائلسس بھی روک کر موت کے منہ تک جا پہنچتے ۔

مسیحائی کا دعوی کرنے والا یہ جعلی پیر جو کہ پہلا کلمہ تک نہیں جانتا تھا لوگوں کے کمزور عقیدوں سے نہ صرف کھیل رہا تھا بلکہ ان کو اپنی کم علمی کے سبب موت کے منہ تک پہنچانے کا بھی باعث بن رہا تھا ۔ ایسے لوگوں کے خلاف پولیس جانتے بوجھتے کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کے بجاۓ صرف اپنا بھتہ وصول کر کے خاموش تماشائی بنی لوگوں کی جان کے ساتھ ہونے والے اس مزاق کا حصہ بنی ہوئی تھی ۔

To Top