بابا چھون شاہ، جعلی پیر عورتوں کی شرمگاہ کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

بابا چھون شاہ، جعلی پیر عورتوں کی شرمگاہ کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

ضعیف العتقادی اور توہم پرستی ان بیماریوں کا نام ہے جس میں مبتلا افراد سراسر اپنے نقصان کے ذمے دار خود ہی ہوتے ہیں۔ عام طور پر اس کا شکار خواتین ہی ہوتی ہیں۔ جنہیں اس کی قیمت کے طور پر مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اپنی عزت بھی گنوا کر ادا کرنی پڑتی ہے۔

جعلی پیر یا نام نہاد مذہبی پیشوا جو کہ خود پہلے کلمے تک سے ناواقف ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لوگوں کے روحانی علاج کے دعویدار بن بیٹھتے ہیں۔ اور اس کے لۓ ایسے مافوق الفطرت طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جو کسی بھی ذی شعور انسان کے لۓ ناقابل قبول ہوتے ہیں۔

مگر کمزور عقیدے کا شکار یہ خواتین اپنی عصمت ان جعلی پیروں کے ہاتھوں نہ صرف گنوا بیٹھتی ہیں بلکہ اپنی آنے والی ساری زندگی میں ان افراد کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے ہی ایک جعلی پیر بابا چھون شاہ بھی ہیں۔ جو کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں اپنی دکان سجاۓ بیٹھتے ہیں۔ علاقہ مکین ان کو شاہ جی کے نام سے جانتے تھے۔

بابا چھون شاہ عورتوں کی شرمگاہ پر ہاتھ لگا کر دم کرنے والے بےغ…

بابا چھون شاہ عورتوں کی شرمگاہ پر ہاتھ لگا کر دم کرنے والے بےغیرتی کی انتہاء

Posted by Social XRay Affairs on Tuesday, November 28, 2017

ان کا طریقہ واردات بہت ہی انوکھا ہے۔ ہوس زدہ یہ جعلی پیر اپنے پاس آنے والی خواتین کے جسم کے اوپر ایسی ادویات چھڑکتا ہے جس کے سبب وہ اپنے جسم کے پوشیدہ حصے نمایاں کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اور یہ وحشی درندہ ‏خواتین کی شرم گاہوں کو نہ صرف چھو کر ان پر دم کرتا ہے۔

بلکہ کئی خواتین کی عزت لوٹنے کے بعد ان کی ویڈیوز کے ذریعے ان کے بلیک میل بھی کرتا ہے۔ اس عمل کے لۓ وہ درد کش ادویات کا استعمال کرتا ہے جن کے جسم پر استعمال ہوتے ہی جلن اور خارش شروع ہو جاتی ہے

جس کو دور کرنے کے لۓ وہ عورتوں کی شرمگاہوں کو چھو کر دم کرتا ہے ۔پولیس کے چھاپے کے دوران اس جعلی پیر کے اڈے سے تین سو سے زیادہ خواتین کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں ، مانع حمل ادویات اور چرس افیم بھی برآمد ہوئیں ۔

اس قسم کے جعلی پیروں کے سامنے آتے واقعات عورتوں کی آنکھیں کھولنے کے لۓ کافی ہونے چاہیں ۔ عورتوں کو اب اس بات کا شعور حاصل کر لینا چاہیے کہ ایسے جعلی پیر یا پاکھنڈی صرف اور صرف اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لۓ شعبدے بازیاں دکھاتے ہیں۔جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ۔

To Top