اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے پیش کردہ اس بل نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے پیش کردہ اس بل نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا

چودہ، پندرہ اور سولہ نومبر کے اسلامی نظریاتی کونسل کےہونے والے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جس طرح عورتوں کے حقوق کے لئے بل پیش کیا گيا ہے اسی طرح مردوں کے حقوق کا بھی بل پیش کیا جاۓ جن کے بنیادی نکات کچھ اس طرح سے تجویز کۓ جا رہے ہیں ۔

7

Source: Dawn

 

٭عورتوں کی جانب سے کۓ جانے والے گھریلو تشدد سے مردوں کو تحفظ دلایا جاۓ ۔

٭عورتوں کے لۓ شیلٹر ہوم بناۓ جا رہے ہیں اسی طرز کی پناہ گاہیں مردوں کے لۓ بھی تعمیر کی جائیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس کرنے کے لۓ واقعی کوئی کام نہیں؟ کیا عوام کا پیسہ اتنا فالتو ہے کہ ان کے ٹیکسوں کے پیسے سے ایسے موضوعات پر بحث کی جاۓ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے ۔

آج تک کتنے لوگوں نے کسی عورت کے ہاتھوں پٹے ہوۓ مرد کی مرہم پٹی کروائی ہے؟

کتنے مردوں کو عورتوں نے گھر سے دھکے دے کر باہر نکالا؟

کیا آج تک کسی مرد کی عزت لوٹی گئی؟

مردوں کا معاشرے میں ایک باعزت مقام ہے ۔ وہ مجازی خدا ہے، وہ عورت کا سائباں ہے ، جیسے عورت کو اللہ نے صنف نازک بنایا ہے مرد کو اللہ نے اس کو تحفظ دینے والا بنایا ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا کام تو ایسے قوانین کو فروغ دینا ہونا چاہئے جو فطرت سے قریب تر ہوں۔

4

Source: Dawn

اللہ تعالی نے مرد عورت دونوں کو آپس میں مقابلہ کرنے کے لۓ نہیں بلکہ محبت اور سکون کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لۓ بنایا ہے ۔ لہذا اسلامی نظریاتی کونسل سے منسلک علماء کرام سے مودبانہ گزارش ہے کہ ان دونوں اصناف کے درمیان وجہ تفاوت نہ بنیں بلکہ ایسے قوانین مرتب کریں جو باہمی محبت اور یگانگت کا سبب بنیں۔

To Top