اسلام آباد کی سڑکوں پر برہنگی کا رقص

اسلام آباد کی سڑکوں پر برہنگی کا رقص

شراب کے نشے میں دھت ، عالم مافیہا سے بے خبر ،اپنی دھن میں مست وہ سڑک پر چلے جا رہی تھی ۔گزرنے والے لوگوں نے شائد اس کی حالت کو محسوس نہیں کیا تھا ۔اچانک اس نے خود کو بے لباس کرنا شروع کر دیا ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ راہ چلتے لوگ اس امر کو روک لیتے اور اگر روک نہ پاتے تو کم از کم روکنے کی کوشش تو کرتے مگر ہم آج کے دور میں اخلاقی انحطاط کے سبب روکنے کے بجاۓ جھٹ موبائل نکال کر اس منظر کی فلمبندی شروع کر دی گئی۔

فضائیں بین کر رہی تھیں ، ہواؤں نے ماتم شروع کر دیا، اور پھر منٹوں سیکنڈوں میں اس شرمناک عمل کی ویڈیو لاکھوں کروڑوں لوگوں تک جا پہنچی ۔ ہر کوئی اس ویڈیو کو ذیادہ سے ذیادہ شئیر کر کے اس انسانیت سوز واقعے کی اطلاع دوسرے تک پہنچاناچاہتا تھا کہ حوا کی بیٹی نے آج سب کے سامنے خود کو بے لباس کر دیا۔

12

Source: Tumblr

بےلباس حوا کی ایک بیٹی ہوئی اور عزت ہر عورت کی پامال ہوئی ، بڑوں سے ہمیشہ یہی سنا تھا کہ ہر عورت کی شرم پردہ، حیا سانجھا ہوتا ہے ۔اسلام نے تو ہمیں ہمیشہ پردہ پوشی کا حکم دیا ہے ۔اللہ کی ذات سے بڑا پردہ پوش کوئی نہیں ۔ سوچیں اگر وہ ہمارے عیب،گناہ اور برائیاں سب سے شیئر کرنا شروع کر دے تو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں ۔

میری آج کی نسل سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگرچہ یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے مگر اخلاقیات کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ جیسے بڑے کہا کرتے تھے کہ بولنے سے پہلے تول لیا کرو اسی طرح کچھ بھی شئیر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیا کریں کہ کہیں آپ کچھ غلط تو نہیں کر رہے؟؟

 

To Top