چار شادیاں کرنے کے شوقین حضرات متوجہ ہوں ! شادی کرنے سے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں

چار شادیاں کرنے کے شوقین حضرات متوجہ ہوں ! شادی کرنے سے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں

مردوں کو چار شادیوں کی اجازت

اسلام دین فطرت ہے اس کا کوئی بھی قانون ایسا نہیں ہے جو کہ انسانی فطرت کے اصولوں سے متصادم ہو یہی سبب ہے کہ اسلام نہ صرف آج تک قائم و دائم ہے بلکہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے ۔ مرد اور عورت کے حقوق و فرائض کے بارے میں بھی اسلام میں مکمل رہنمائی موجود ہے ۔


معاشرے کے اندر عام طور پر یہ تاثر موجود ہے کہ اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور اس کے بارے میں قرآن کے اندر بھی حکم موجود ہے اور یہ مرد کا جسمانی اور نفسیاتی تقاضا بھی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شریک حیات رکھ سکتا ہے ۔

صبح کا منظر

اللہ تعالی نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت

سب سے پہلے تو اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ اگر مرد کے جسمانی تقاضوں کے لیۓ ایک سے زیادہ عورت لازمی ہوتی تو اللہ تعالی نے جب حضرت آدم کے لیۓ بی بی حوا کی تخلیق کی تو اس وقت مرد کی ضروریات کو سمجھتے ہوۓ اللہ تعالی ایک عورت نہیں بلکہ چار عورتیں تخلیق کرتے جب کہ قرآن تو خود بیان کرتا ہے کہ

’’اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔‘‘سورۃ النسا

چار شادیاں کا حکم

سورۃ النسا کا بیان

اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ پھر وہ کون سے حالات تھے کہ جس میں اللہ تعالی نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی تو اللہ تعالی مر نےدوں کو یہ اجازت کچھ خصوصی حالات میں دی ہے جیسے کہ جب مدینے کے اندر جنگوں کی صورت میں بہت سارے مسلمان مرد مارے گۓ تو ان کے یتیم بچوں اور بیواؤں کی نگہبانی کا سوال پیدا ہوا ایسے حالات میں قرآن میں اللہ کی جانب سے رہنمائی فرمائی گئی

’’اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کی ماؤں سے دو دو، تین تین، چار چار تک شادی کرلو۔ اور اگر تمھیں ڈر ہو کہ تم ان کے مابین انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی کافی ہے یا وہ جو تمھاری ملک یمین میں ہوں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف کرو گے اوران عورتوں کو ان کا مہر خوشی خوشی ادا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے ہنسی خوشی استعمال کرو۔‘‘سورۃ النسا 

قرآن مجید

اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت صرف خصوصی حالات میں دی تھی جس کا مقصد مرد کے جسمانی تقاضے نہیں تھا بلکہ یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کی پاسبانی تھا ۔موجودہ معاشرے میں بھی اس نیت سے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت موجود ہے ۔

ایک سے زیادہ نکاح کیا جاۓ

مگر اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر انبتاہ بھی کیا گیا ہےکہ اگر ایک سے زیادہ نکاح کیا جاۓ تو اس امر کو بھی یقینی بنایا جاۓ کہ تمام بیویوں کے درمیان مساوات کا سلوک کیا جاۓ اور اگر کوئی انصاف نہ کر سکے تو پھر اس کو ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرنی چاہیۓ ہیں

’’تم اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ (دلی تعلق کے معاملے میں) بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو، چاہے تم کتنا ہی چاہو۔ (پس اتنا تو ہونا چاہیے کہ )تم ایک کی طرف اتنا نہ جھک جاؤ کہ دوسری لٹکتی رہ جائے۔‘‘ سورۃ النسا

ان آیات کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت خصوصی حالات میں ہی دیتا ہے اور یہ اجازت اس کے کسی جسمانی اور نفسیاتی تقاضے کے لیۓ نہیں دیتا بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیۓ دیتا ہے ۔

To Top