ریحام خان کی کتاب کے بارے میں بلآخر عمران خان بھی پھٹ پڑے ایسا کیا کہہ دیا کہ ریحام خان کی بولتی بند ہوگئی

ریحام خان کی کتاب کے بارے میں بلآخر عمران خان بھی پھٹ پڑے ایسا کیا کہہ دیا کہ ریحام خان کی بولتی بند ہوگئی

پاکستان کے اندر سیاست کرنے کے لیے صرف نظریات کی ضرورت نہیں ہوتی سیاست دانوں کو اس بات کے لیۓ تیار رہنا پڑتا ہے کہ ان کی زندگی کا ہر گوشہ لوگوں کی نظروں میں ہوتا ہے اور اس پر لوگ بات کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں سیاست میں آنے کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان کا کوئی عمل بھی اس کا ذاتی نہیں ہوتا ایسا ہی کچھ عمران خان کے حوالے سے بھی ہوا گئی

عمران خان کی ذاتی زندگی کو ہمیشہ لوگوں نے زیر بحث رکھا وہ جمائما کے ساتھ ان کی شادی ہو یا پھر علیحدگی پاکستانی و بین الاقوامی میڈیا نے ہمیشہ اس حوالے سے کسی بھی ختر کو شہہ سرخیوں کی زینت بنایا اس کے بعد جب ریحام خان کی عمران خان کے ساتھ شادی ہوئی تب تک عمران خان ایک کھلاڑي سے زیادہ ایک سیاست دان بن چکے تھے لہذا ان سے جڑی خبروں نے مذید اہمیت اختیار کر لی تھی

جمائم کے مقابلے میں ریحام خان کا عمران خان سے طلاق کے بعد ردعمل بہت مختلف تھا انہوں نے طلاق کے فورا بعد ہی اپنی اور عمران خان کی ازدواجی زندگی اور ذاتی زندگی کو میڈیا کے سامنے لانا شروع کر دیا تھا جس کو مرچ مصالحہ لگا کر لوگوں کے سامنے میڈیا نے پیش کرنا شروع کر دیا تھا

مگر اس سارے معاملے میں عمران خان کی جانب سے ہمیشہ خاموشی ہی دیکھنے کو ملی حال ہی میں ریحام خان نے اپنی آپ بیتی ریحام خان کے نام سے لکھی جس میں عمران خان کے حوالے سےانتہائی شرمناک الزامات لگاۓ گۓ تھے مگر ان کے جواب میں بھی عمران خان نے کسی قسم کا بیان دینے سے پرہیز کیا

حال ہی میں ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوۓ ریحام خان کے معاملے میں پہلی بار لب کشائی کی ان کا کہنا تھا کہ ریحام خان سے شادی ان کی زندگی کی ایک بڑی غلطی تھی جس کو وہ تسلیم کرتے ہیں

اپنی موجودہ شادی کے حوالے سے انہوں نے مذید یہ بھی کہا کہ انہوں نے شادی سے قبل اپنی موجودہ بیوی بشری بیگم کو نہیں دیکھا تھا شادی کے بعد انہوں نے پہلی بار بشری بی بی کو دیکھا عمران خان کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی موجودہ بیگم بشری روحانی طور پر ایک بلند رتبہ شخصیت ہیں

وہ شرعی پردہ کرتی ہیں اس وجہ سے اگر عمران خان وزیر اعظم بن بھی گۓ تو بشری بی بی کسی قسم کی سرکاری تقریبات میں شرکت نہ کریں گي اس حوالے سے عمران خان کا مذید یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں پر ان کی اپنی خواہش بھی ہے کہ ان کی بیگم زيادہ سوشل نہ ہوں تو بہتر ہے

 

To Top