عمران خان کا اسلام آباد بند کرنے کا اعلان: سیاسی رہنماؤں نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا

عمران خان کا اسلام آباد بند کرنے کا اعلان: سیاسی رہنماؤں نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا

ستائیس اکتوبر کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے مگر لگ رہا ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں یہ دن سیاسی نمائندوں کے یوم روسیاہ کے طور پر منایا جاۓ گا ۔ عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد میں لاک ڈاون کا اعلان کیا کردیا لگنے لگا ہے کہ حکومتی ارکان اور اس کے حلیفوں کی زبانوں کا قفل کھل گیا  اور ان منہ سے نکلنے والے مغلظات اور اس کے تعفن نے ستائیس اکتوبر کو سیاسی تاریخ کا بد ترین دن بنا دیا۔

 57ef07e597aa3.jpg

Source: Dawn

سب سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کیا اور نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوۓ عمران خان اور اپوزیشن کے خلاف ایسی زبان استعمال کی کہ میڈیا چینلز نے اس کو اخلاقیات سے گرے ہو ئے ہونے کے سبب ٹیلی کاسٹ  نہیں کیا۔ کہنے لگے عمران خان تم نے چار مہینے تک اسلام آباد میں جو جنسی آلودگی پھیلائی اس کا تعفن دوبارہ نہیں پھیلانے دیں گے اور اس کے بعد پشتو زبان کا استعمال کر کے جو کچھ کہا گیا کم ہے۔

پھر باری آئی خواجہ سعد رفیق کی  ۔ ان کی پریس کانفرنس سن کر تو یہی یاد آدہا ہے کہ میں ناچی اتنے زور سے کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کے بال ٹھاکرے ہیں انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آگے کہنے لگے کہ ہم سے تلاشی مانگتے ہیں اگر ہم نے ان کی تلاشی لی تو چونکہ عمران خان نشہ آور ادویات استعمال کرتے ہیں تو کہیں سے پڑیاں، بے نامی اولادیں، بے نامی جائیدادیں نکل آئیں گی۔

Source: Twitter

حکومتی جانب سے اس قسم کے ردعمل کے بعد اپوزیشن والے کہاں پیچھے رہنے والے تھے جب کہ ان کے پاس شیخ رشید جیسا بڑکوں کا شیر بھی تھا۔ تو اب باری آئی ان کی تو فرمانے لگے کہ دفعہ 144 کے 144 ٹکڑے کر دوں گا ۔ اور پولیس والوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کر دوں گا۔مزید فرماتے ہیں چاندنی چوک سے اسلام آباد تک ہر گلی ہر محلے سے لوگ نکلیں گے یہ اپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر آگئے ہیں ۔ اپنے ٹوئیٹ میں لکھتے ہیں بڑا شیر بنا پھرتا ہے جو لال حویلی سے ڈرتا ہے۔

پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن میں خواتین پر پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد پیچھے تو پی ٹی آئی کی خواتین بھی نہ رہیں فرمانے لگیں کہ میں ان سب کو نہیں چھوڑوں گی کوئی اور نہیں ایک فوجی کی بیٹی ہوں میں۔ اس کے علاوہ بہت کچھ کہا گیا اور سنا گیا۔

ہم عوام صرف یہ سوچ رہے ہیں کہ یوم سیاہ کشمیر میں منایا جا رہا ہے اور روسیاہی پاکستان کے سیاستدانوں کی ہو رہی ہے۔

To Top