علاج گاہ قتل گاہ کیسے بنی؟

علاج گاہ قتل گاہ کیسے بنی؟

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

گھر سے جاتے وقت اسے قطعی طور پر یہ علم نہیں تھا کہ جہاں وہ علاج کی غرض سے جا رہا ہے وہاں اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اسے کوئی خاص بیماری بھی نہیں تھی۔ بس سگریٹ نوشی ترک کرنے کےلیے وہ اس سینٹر گیا تھا جو ایک ہفتے کے اندر ہی اس کی موت کا سبب بن گیا۔ اس کی سگریٹ نوشی کی عادت بھی اتنی پرانی نہیں تھی کیوں کہ وصول ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں اس کی سگریٹ نوشی کے اثرات نہیں تھے قتل کرنے کے بعد سنٹر والے اب اس پہ نشے کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔

یہ کہانی ہے گجرانوالہ کے خوبصورت جوان عکاشہ ارسلان ھاشمی کی۔ اس کی عمر 28 برس تھی اور ٹھیک 40 دن بعد اس کی شادی تھی۔ گھر سے وہ یہ بتا کر نکلا تھا کہ چونکہ شادی قریب ہے اس لیے اب میں نے سگریٹ ترک کرنی ہے اور اسی مقصد کےلیے وہ گھر سے لاہور کے ایک ہسپتال براۓ انسداد نشہ میں داخل ہو گیا۔

چار دن بعد سنٹر سے فون آ گیا کہ آپ کا بیٹا سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہو گیا ہے۔ گھر والوں کےلیے یہ خبر قیامت سے کم نہ تھی۔ جب اس کا بھائی لاش وصول کرنے کےلیے ھسپتال پہنچا تو اسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لاش کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے حادثاتی موت قرار دیا جا سکے۔ چونکہ مقتول کا بھائی خود بھی ڈاکٹر تھا لہٰذا لاش پر موجود تشدد کے نشانات پہچان گیا۔ پوسٹ مارٹم کروانے پر پتہ لگا کہ مقتول پر موت سے قبل اتنا تشدد کیا گیا کہ اس کے پھیپھڑے پھٹ چکے تھے اور کئی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ سینے پر لگنے والی ضربوں کی وجہ سے دل بھی پھٹ چکا تھا۔ جسم پر تشدد کے بے شمار نشانات تھے اور نیل بھی پڑے تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مقتول کی موت حادثاتی نہیں ہے بلکہ غیر انسانی تشدد کی بناء پر ہوئی ہے۔ فی الوقت یہ کیس تھانہ ٹاؤن شپ لاہور میں درج ہے۔ مگر مجرم با اثر ہونے کی وجہ سے ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ مالکوں کے با اثر ہونے کا پتہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا پر یہ خبر آنے کے ایک گھنٹہ کے اندر اندر انہوں نے خبر سے اپنے ادارے کا نام نکلوا دیا۔ لیکن اب کیس سوشل میڈیا کے پاس ہے۔ یہاں پیسہ اور تعلقات کام نہیں آتے کیوں کہ معاملہ براہِ راست عوام کی عدالت میں ہوتا ہے۔

اس کیس کا مرکزی ملزم تاحال لاپتہ ہے۔ لاش وصول کرنے کےلیے جب مقتول کا بھائی گیا تو اس نے وہاں موجود سنٹر کے عملے کے تین افراد سے بھائی کی موت کی وجہ پوچھی۔ حیران کن طور پر تینوں بندوں نے الگ الگ وجوہات بتائیں۔ پولیس نے چند لوگ حراست میں لیے ہیں مگر کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مقتول کے اہلِ خانہ اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔

To Top