نئے شادی شدہ جوڑوں کے ہنی مون پر جانے کی ایسی وجوہات جوسب کو حیران کردیں گی

نئے شادی شدہ جوڑوں کے ہنی مون پر جانے کی ایسی وجوہات جوسب کو حیران کردیں گی

جس طرح مشرقی معاشرے میں شادی سے قبل مہندی اور مایوں کی رسم ضروری ہوتی ہے اسی طرح شادی کے بعد بھی کچھ ایسی رسومات اور رواج ہیں جن کے بغیر شادی کا مزہ نہیں آتا ۔ان میں ایک اہم رسم ہنی مون کی بھی ہے ۔ مشرقی معاشرے میں اس کا رواج کہاں سے آیا اور سب سے پہلے ہنی مون پر جانے والا فرد کون تھا ۔

اس کے بارے میں ہم سب اسی طرح نہیں جانتے جس طرح ہمیں نہیں پتہ کہ مسلمانوں کی شادی میں مہندی مایوں کی رسم کا آغاذ کس نے کیا تھا ۔ شادی شدہ جوڑۓ شادی کے پہلے دن سے ہی ہنی مون کو پلان کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اور ان کی پلاننگ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے شادی صرف ہنی مون پر جانے کے لۓ کی تھی ۔

کچھ نئے شادی شدہ جوڑوں سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کے جوابات کی روشنی ميں یہ وجوہات سامنے آئیں

مشترکہ خاندانی نظام

ہمارے معاشرے میں زیادہ تر گھرانے مشترکہ خاندانی نظام کے تحت چلتے ہیں ۔اس گھر میں چھوٹے بہن بھائی ،بڑے بھائی اور اس کی فیملی ، اور بعض گھروں میں تو چچا تایا اور ان کے بچے بھی ہوتے ہیں ۔ایسے گھرانوں میں نئی نئی شادی ہونے کی صورت میں انسان سب کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے ۔

اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ بیٹھنا اور اس کے ساتھ ٹائم گزارنے کی خواہش تو کر سکتا ہے مگر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اس گھر میں تو ناممکن ہی ہوتا ہے ۔ اسی سبب مشترکہ خاندان نظام میں رہنے والے شادی کے فورا بعد ہنی مون پر جانے ہی میں بہتری سمجھتے ہیں ۔

دلہن کی اولین خواہش پوری کرنے کے لۓ

 

شادی کے ابتدائی دنوں میں انسان بیوی کا اتنا عاشق ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئۓ آسمان سے چاند توڑ کر لانے کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے ۔ اور لڑکیوں نے شادی سے پہلے اپنے گھر میں جب بھی سیرو تفریح یا پہاڑی علاقوں میں سیر کی خواہش کا اظہار کیا ہوتا ہے تو اس کو یہی سننے کو ملتا ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا ۔

اسی سبب بیوی کی اس خواہش کی تکمیل کے لۓ تو شوہر جان کی بازی لگانے کو تیار ہو جاتا ہے اسی سبب شادی کے فورا بعد شادی شدہ جوڑے ہنی مون پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔

شادی کے دنوں کی تھکن اتارنے کے لۓ

 

ہمارے معاشرے میں شادی ایک انتہائی مشکل اور تھکن والا کام ہے ۔ اس میں ہونے والی رسومات اور کام نہ صرف گھر والوں کو تھکا ڈالتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دولہا دلہن بھی تھک جاتے ہیں ۔اور اس تھکن کو اتارنے کے لۓ ہنی مون ایک سنہری موقع ہوتا ہے ۔

ارینج میرج کے سبب

ہمارے معاشرے میں عام طور پر شادیاں ارینج ہوتی ہیں ۔دولہا دلہن ایک دوسرے کے لۓ اجنبی ہوتے ہیں ۔اور اس اجنبیت کی دیوار گرانے کے لۓ ہنی مون ہی وہ واحد صورت ہوتی ہے جس میں ان دونوں کو نہ صرف تنہائی میسر آتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے ۔

ہنی مون کی ان وجوہات کو جاننے کے بعد تمام شادی شدہ جوڑے فوری طور پر اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں کیوںکہ ہنی مون کا موقعہ انسان کو زندگی میں ایک ہی بار ملتا ہے

To Top