ہیجڑہ ، مخنس یا تیسری جنس کے لوگ مظلوم یا مجرم ؟؟

ہیجڑہ ، مخنس یا تیسری جنس کے لوگ مظلوم یا مجرم ؟؟

کمرے کا دروازہ بند کیۓ ریڈیو پر بجنے والے گانوں کی لے پر سر پر دوپٹہ اوڑھے میں ناچتا جا رہا تھا ۔ میرے ہاتھوں کی چوڑیاں سائز میں بڑی ہونے کے سبب بار بار گر جاتی تھیں مگر ان کی کھنک مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی چہرے پر غازہ اور سرخی لگاۓ اپنے تئیں میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا

مگر اسی وقت اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ابا اندر داخل ہوۓ انہوں نے مجھے اس حلیۓ میں دیکھتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ پیر کی جوتی اتاری اور مجھ پر برسانی شروع کر دی  اس کے ساتھ ساتھ ان کی زبان سے بہت بری بری گالیاں بھی نکل رہی تھیں ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں جب بھی باجی کا دوپٹہ پہنتا اور میک اپ کرتا ابا مجھے اتنا مارتا کیوں تھا ۔ جب کہ مجھے یہ سب کر کے بہت خوشی ملتی تھی

میں جب اسکول جاتا تو شروع ہی سے مجھے وہاں لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا ان سےباتیں کرنا ان سے دوستی کرنا پسند تھا ۔ میرے دوست اس بات پر میرا مزاق بھی اڑایا کرتے تھے کچھ لوگ تو مجھے ہیجڑا کہہ کر بھی پکارتے تھے مگر میں ہیجڑا تو نہ تھا ۔

مجھے میری امی ابو سب سے اس بات پر بہت مار پڑتی تھی مگر مجھے خود سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں عام لڑکوں کی طرح کیوں نہیں ہوں مجھے کرکٹ فٹ بال سے زیادہ گڑیوں سے کھیلنا کیوں پسند تھا ۔ جیسے جیسے میں جوانی کی حدود میں قدم رکھتا گیا

میرا اٹھنا بیٹھنا بولنا چالنا سب لڑکیوں کے انداز میں منتقل ہوتا گیا ۔ میرے والد نے اب مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کسی گناہ کے طور پر میں اس دنیا میں آیا ہوں انہوں نے خصوصی طور پر مجھے بس یہ ہدایت کر دی کہ میں کوشش کروں کہ ان کے یا ان کے کسی عزیز کے سامنے نہ آؤں ۔

اسی سبب میرا تعلیمی سلسلہ بھی ختم ہو گیا اب میں ہوتا اور میری تنہائی ۔چھت پر پڑے کاٹھ کباڑ کے ساتھ میرا بستر لگا دیا گیا جہاں میری امی گھر کے باقی لوگوں سے چھپ کر میرے لیۓ کھانا لا دیا کرتی تھیں مگر ایسا صرف دن میں دو بار ہی ہو سکتا

ایک رات ہمارے برابر والے والے مکان میں کسی کی شادی تھی مہندی کی تقریب میں انہوں نے ناچنے والے ہیجڑوں کو بھی بلوا رکھا تھا ۔ جن کے گھنگھروں کی آواز مجھے مسحور کر رہی تھی میں نے بے ساختہ موسیقی کی آواز پر ناچنا شروع کر دیا جس کا احساس میرے ابو کو بھی ہو گیا

اس کے بعد وہ اوپر آۓ انہوں نے پہلے تو مجھے بہت مارا پیٹا اس کے بعد گھسیٹتے ہوۓ مجھےگھر سے باہر لے گۓ اور میرا ہاتھ پڑوس میں  آۓ ہوۓ ہیجڑوں کے گرو کے ہاتھ میں تھما دیا اور ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اس کو لے جاؤ کہیں دور تاکہ آئندہ یہ مجھے نظر نہ آسکے

اس کے بعد ہیجڑ ےمجھے اپنے ڈیرے پر لے گۓ وہاں ان میں سے کوئی میرا گرو بن گیا کوئی دوست مجھے تنہائی کے عزاب سے چھٹکارہ مل گیا ۔ مگر ایک بات کا دکھ ہے کہ میں اپنی ماں سے اب نہیں مل سکتا ۔ لوگ مجھے دیکھ کر طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں کچھ لوگ تو لعنت ملامت بھی کرتے ہیں

مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ہم عام لوگوں کی طرح سب کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو لوگ ہمیں ساتھ رہنے نہیں دیتے اور جب اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ رہنے لگتے ہیں تو لوگ لعنت ملامت کرتے ہیں ۔ایسا کیوں ہے ؟

To Top