طلبہ کی آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کی دھمکی ۔۔ ایچ ای سی نے نوٹس لے لیا

طلبہ کی آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کی دھمکی۔۔ ایچ ای سی نے نوٹس لے لیا

ایچ ای سی

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حفاظتی اقدامات کے تحت گزشتہ ماہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ  احکامات کے بعد متعدد  یونیورسٹیز نے  آن لائن کلائسز  لینے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم آن لائن کلاسز کا مربوط نظام نہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ پر پہلے سے موجود ذرائع جن میں زوم، یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

آن لائن کلاسز

The-Current

ہائر ایجوکیشن کمیشن  کی جانب سے  ملک کی تمام یونیورسٹیز کو آن لائن کلاسز کا آغاز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ایچ ای سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام جامعات جن میں لرننگ مینجمنٹ سسٹم(ایل ایم ایس) موجود ہے وہ آن لائن کلاسز کا اہتمام کریں تاکہ ملک میں تدریسی عمل جاری رہے۔

طلبہ کی  شدید تنقید

تاہم نئی ہدایات کے فورا بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اسٹوڈنٹس کی جانب سے پاکستان کے آن لائن تعلیمی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔۔ SuspendOnlineClasses# ہیش ٹیگ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور ہزاروں شکایات گردش کرنےلگیں۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ غیر مستحکم انٹرنیٹ کے باعث انہیں آن لائن کلاسز لینے میں شدید دشواری کا سمنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بھاری بھرکم فیسیں لینے کے بعد بھی انہیں معیاری تعلیم نہیں دی جارہی ہے۔اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ اگر آن لائن کلاسز کو فوری طور پر معیاری نہیں بنا یا گیا  تو وہ بائیکاٹ کر دیں گے۔ ان  کلاسز سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا جبکہ  یہ وقت اور پیسے کے ضیاں کے علاوہ کچھ نہیں!۔

ایچ ای سی اعلامیہ

Twitter

جامعات لرننگ مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنائیں

اسٹوڈنٹس کی جانب سے  شدید ردعمل کےبعد ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کچھ جامعات میں آن لائن کلاسز سے متعلق شکایات کے پیش نظر اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے متعلقہ کورسزکی تفصیلی معلومات طلب کر لی ہیں تاکہ کورسز کے مشمولات، اُن کی طلبہ تک ترسیل اور کنیکٹیوٹیکے معاملات کو پرکھا جاسکے۔

اس ضمن میں چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے کہا ہے کہ اگراعلیٰ معیارکے آن لائن کورسزکی فراہمی کے حوالے سے کسی یونیورسٹی کی استعدادکار کم ہے تو وہ  تعلیمی عمل31 مئی تک معطل  رکھ سکتی ہیں ، اور یہ عرصہ موسم گرما کی تعطیلات میں شمار کیا جائے گا۔جبکہ ایچ ای سی کی جانب سے یہ  ہدایت  بھی کی گئی کہ   ایسی تمام جامعات 31 مئی سے پہلے پہلے لرننگ مینجمنٹ سسٹم  مضبوط بنانےکے ساتھ  عملے اور اساتذہ کو ٹریننگ دیں اور یکم جون سے ایل ایم ایس کو مکمل طور پر عمل میں لائیں تاکہ سمسٹر پورا کیا جاسکے۔

آن لائن ایجوکیشن

Pakistan Today

مزید پڑھیے: انقلاب کتاب کی وجہ سے نہیں ہمیشہ صاحب کتاب کی وجہ سے آیا ہے

آن لائن کلاسز جاری رہیں گی

ایچ ای سی کی جانب سے ۔جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے ابھی یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ کورونا وائرس کے باعث عائد پابندی کب تک رہے گی، اگر صورتحال میں بہتری ہوئی اور پابندی یکم جون سے پہلے اٹھا لی گئی تو ہم باقاعدہ کلاسز کی طرف جائیں گے بصورت دیگر ہم آن لائن اپنی کلاسز جاری رکھیں گے۔ آن لائن کلاسز کے انعقاد کیلئے ٹیکنیکل سپورٹ کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے،جو یونیورسٹی انتظامیہ کو آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گی، جبکہ ایچ ای سی نے نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن کو تجویز دی ہے کہ اساتذہ کی آن لائن ایجوکیشن کے حوالے سے صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے آن لائن کورسز کا بھی اہتمام کیا جائے۔

 سوال یہ ہے کہ آخر کب پاکستان کے فرسودہ تعلیمی نظام میں  تبدیلی  آئے گی ۔ کب ہمارا تعلیمی نظام اتنا موثر  ہوگا کہ طلبہ کو  ایک کلک پر ہر چیز میسر ہو سکے گی؟  ہم بحیثیت  قوم کسی حادثے  کے بعد ہی کیوں جاگتے ہیں۔ امید ہے کہ  ایچ ای سی طلبہ کی مشکلات کا حل نکالتے ہوئے ایک موثر پلان کے تحت اعلا تعلیم کا حصول ممکن بنا سکے گی۔

To Top