مغربی مصنفین نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شمار دنیا کے سو طاقتور ترین لوگوں میں کیوں کر دیا وجہ ایسی جس سے ہم سب آج تک ناواقف تھے

مغربی مصنفین نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شمار دنیا کے سو طاقتور ترین لوگوں میں کیوں کر دیا وجہ ایسی جس سے ہم سب آج تک ناواقف تھے

مغرب کے مشہور مصنف مائیکل ہرٹ جب دنیا کی سو طاقتور ترین شخصیات کے بارے میں کتاب لکھنے لگے تو اس لسٹ میں سر فہرست جس شخصیت کا نام تھا وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ۔ مائیکل ہرٹ نے اپنی کتاب مین ان تمام وجوہات کو تفصیل سے بیان کیا جن کی بنا پر اس نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سرفہرست کیوں رکھا

نوع انسانی کی تبدیلی کا سبب تھے

اپنی کتاب میں مائکل ہرٹ نے ان کے حوالے سے ایک اور مصنف اسٹیو جاب کا ایک بیان تحریر کیا

‘آپ حضرت محمد کے اقوال سنیں تو آپ ان سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ایک چیز ان کے حوالے سے جو رد نہیں کر سکتے وہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تبدیلی واقع ہوئی وہ نوع انسانی کو تہذیب و تمدن کے حوالے سے آگے لے کر گۓ ‘

ان کی زندگی آج کے زمانے تک کے لوگوں کے لیۓ ایک مثال ہے

 

تاریخ میں یہ اعزاز بہت کم افراد کو حاصل ہے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج تک ان کی زندگی کا ہر ہر لمحہ تاریخ کے اوراق میں نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ان کے ماننے والے کھانے پینے بولنے چالنے بیٹھنے اٹھنے غرض زندگی کے ہر ہر شعبے میں تقلید کرتے نظر آتے ہیں یہ اعزاز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دنیا کی کسی بھی ہستی کو حاصل نہیں ہے

وہ ایک کامیاب ترین انسان تھے

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے ایک خاص مقصد اور پیغام کی ترویج کا کام سونپا ۔ اس کام کے لیے جس سر زمین کا انتخاب کیا گیا وہ عرب کے بنجر صحرا تھے جہاں کے لوگ اپنے علاقے کی طرح سخت جان ، کٹر اور وحشی تھے ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور اس مقصد میں اس حد تک کامیابی حاصل کرنا کہ یہ پوری دنیا تک پہنچ جاۓ بزات خود انتہائی دشوار تھا

مگر خضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کیا بلکہ اپنے بعد اپنے صحابہ کی صورت میں ایسے افراد کو چھوڑ گۓ جو بہترین تربیت یافتہ تھے

انہوں نے بیک وقت جسمانی اور روحانی تربیت کی

 

مشہور مصنف مارٹن لوتھر کا کہنا ہے کہ ‘ہماری سائنسی طاقت نے ہماری روحانی طاقت کو کمزور کر ڈالا ہے ہم گائڈڈ میزائیل تو بنا چکے ہیں مگر انسانیت کو فراموش کر بیٹھے ہیں ‘

جب کہ اس کے مقابلے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کی جس حوالے سے تربیت کی وہ صرف جسمانی حد تک محدود نہ تھی بلکہ انہوں نے روحانی تربیت کا بھی اہتمام کیا

وہ خاص ہوتے ہوۓ بھی عام انسانوں کے لیۓ ایک مثال تھے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے اس دنیا میں آخری نبی بنا کر بھیجا ارشاد خداوندی ہے

 وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

مگر اس کے باوجود ان کے روز و شب اس طرح سے گزرتے تھے جو کہ عام انسانوں کے لیۓ قابل پیروی تھے ان کی صبح کا آغاز اللہ تعالی کی حمد و ثنا س ہوتا تھا جس کی پیروی آج تک تمام مسلمان کرتے ہیں اس کے بعد دن بھر عام انسانوں کی طرح دن بھر کے معاملات کی ادائگی کرتے اس کے ساتھ ساتھ دین کی تبلیغ کا کام بھی جاری رہتا

ان کی زندگی کے یہ معمولات تمام انسانوں کے لیۓ نہ صرف قابل تقلید ہیں بلکہ ایک مثال بھی ہے

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے یہ پہلو جن کا جائزہ ایک مغربی مصنف نے  پیش کیا اوران کی بنیاد پر ان کو دنیا کی طاقتور ترین شخصیت تسلیم کیا ان باتوں کی پیروی سے مسلمان قوم بھی ایک طاقتور ترین قوم میں بدل سکتی ہے

To Top