حسان بن نظیر کو خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ 

حسان بن نظیر کو خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ 

حسان بن نظیر ایک پڑھا لکھا نوجوان لڑکا ،جو کہ عید قرباں کے روز خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے لیے آیا تھا مگر پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ۔ تحقیقات کے نتیجے میں جو حقائق سامنے آۓ وہ انتہائی چشم کشا تھے ۔

حسان بن نظیر کی پیدائش 1990 کی ہے ۔اس کے والد ڈاکٹر نذیر عالم ایک پی ایچ ڈی تھے اور 2002 سے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اور ٹیکنالوجی میں پوفیسر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے ۔جبکہ اس کی والدہ ڈاکٹر سیدہ عارفہ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں ڈاکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتی رہی ہیں ۔جب کہ حسن کی بہن ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہی تھی ۔

حسان بن نذیر نے الیکٹریکل انجنئیرنگ میں بیچلر کی ڈگری سر سید یونی ورسٹی آف انجنئیرنگ اور ٹیکنالوجی سے حاصل کی اور پھر این ای ڈی یونیورسٹی سے اسی شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ داؤد یونیورسٹی میں بحیثییت استاد اور لیب کے ٹیچر کے طور پر چالیس ہزار کے مشاہرے پر ملازم تھا ۔

حسن بن نذیر کی عادات کے بارے میں بتاتے ہوۓ اس کی بہن نے بتایا کہ 2013 میں حسان بن نذیر کا رجحان مذہب کی جانب ہونا شروع ہوا ۔اسی دوران اس نے داڑھی بھی رکھ لی مگر یہ رجحان پانچ وقت کی نماز سے زیادہ نہ تھا ۔اس کی شخصیت میں واضح تبدیلی 2017 میں نظر آنی شروع ہوئی ۔اس نے مجھے بھی سختی سے پردہ کرنے کا کہنا شروع کر دیا ۔اور مہینے میں دو تین بار رات کو گھر بہت دیر سے آنا شروع کر دیا ۔کچھ پوچھنے پر ایک دم غضبناک ہو جاتا تھا ۔

حسان بن نذیر کے والد نے پولیس ذرائع کو اس کے بارے میں بتاتے ہوۓ بتایا کہ اس کے اندر تبدیلی کا آغاز 2015 سے ہوا ۔جب حسان نے رمضان میں نیپا چورنگی پر موجود مسجد میں تراویح کے لۓ جانا شروع کیا ۔مسجد کا تعلق تنظیم اسلامی نامی ایک گروپ سے تھا.

اسی سال حسان بن نظیر بیس دن کے لۓ تبلیغ کے لۓ کراچی سے باہر گیا ۔والدین کے مطابق حسان کا کہنا تھا کہ اس کو تبلیغ کے لۓ کوئٹہ کے کسی دور افتادہ علاقے میں بھیجا گیا تھا ۔مگر پولیس ذرائع سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان بیس دنوں میں حسان نے بلوچستان کے ہی کسی علاقے میں ٹریننگ حاصل کی اور گولی چلانے اور کسی کو مارنے کے تربیتی مرحلے سے گزرا ۔حسان کے گھریلو ذرائع کے مطابق اس کے بعد بھی حسان نے کئی دفعہ جانے کی اجازت مانگی مگر والدین نے اس کو جانے نہیں دیا ۔

حسان کی بہن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حسان اپنی تنخواہ سے ایک پیسہ بھی گھر پر نہیں دیتا تھا ۔حسان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سارے پیسے حیدرآباد میں کسی مسجد کی تعمیر میں خرچ کر رہا ہے ۔لیکن اس نے کبھی ہمیں اس مسجد کے محل وقوع سے آگاہ نہیں کیا ۔گزشتہ سال سے حسان اپنی گفتگو میں حیدرآباد کے کسی مفتی صاحب کا بہت ذکر کرنے لگا تھا ۔مگر اس نے ہمیں کبھی اس کا نام نہیں بتا یا تھا ۔حسان کے والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمرے پر جانے کا ارادہ کیا تھا جس کو حسان نے محرم تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ حسان بن نظیر خواجہ اظہار العسن کے قتل کی منصوبہ بندی کر کے بیٹھا ہوا ہے ۔پولیس تحقیقات کے مطابق حسان بن نظیر کا تعلق دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ سے تھا ۔یہ تنظیم انتہائی پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اس تنظیم کے تانے بانے لشکر جھنگوی نامی تنظیم سے ملتے ہیں ۔اس تنظیم کے ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

حسان بن نظیر کی داستان ہم سب کے لۓ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔معاشرہ کس دھارے کی جانب بہہ رہا ہے ۔کیا حسان بن نظیر جیسے نوجوان ملک کی ترقی اور سالمیت کی حفاظت کے بجاۓ جو کام کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے ؟

To Top