اداکارہ ہانیہ عامر کو فلم پرواز ہے جنوں سے قبل ہی بائیکاٹ کا سامنا وجہ ایسی کہ آپ بھی بائیکاٹ پر مجبور ہو جائيں

اداکارہ ہانیہ عامر کو فلم پرواز ہے جنوں سے قبل ہی بائیکاٹ کا سامنا وجہ ایسی کہ آپ بھی بائیکاٹ پر مجبور ہو جائيں

بھولی سی صورت گالوں پر پڑنے والے ڈمپل اور متاثر کن مسکراہٹ یہ ہیں پاکستان شو بز انڈسٹری میں تیزی سے جگہ بناتی ہانیہ عامر جن کو دیکھ کر دل بے ساختہ دیکھتے رہنے کی ضد کرتا ہے یہی سبب ہے کہ ان کو پاکستانی شائقین کے دل میں بہت تیزی سے جگہ مل گئی

مگر اس بات کو تمام اداکاروں کو یاد رکھنا چاہیۓ کہ جس تیزی سے یہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رہی ہیں اپنے رویۓ کے سبب لوگوں کے دلوں میں ان کا مقام کم ہو رہا ہے

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہانیہ عامر حالیہ دنوں میں اپنی آنے والی پرواز ہے جنوں کی پروموشن میں مصروف ہیں اسی حوالے سے وہ لاہور میں بلاگرز سے جب ملاقات کے لیۓ گئیں تو وہاں انہوں نے اپنے ایک فین کے ساتھ بہت ہی برے رویۓ کا اظہار کیا جس نے بلاگرز کو کافی ناراض کر ڈالا اور انہوں نے بائيکاٹ ہانیہ عامر کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کر دیا

 

اب جب کہ پرواز ہے جنوں کی پروموشن آخری مرحلے میں ہے اور اس کا مقابلہ جوانی پھر نہیں آنی 2 اور لوڈ ویڈنگ جیسی بری فلموں سے ہے وہاں ایک جانب تو حمزہ علی عباسی بیماری کے سبب اس فلم کی پروموشن میں حصہ نہیں لے پارہے دوسری جانب ہانیہ عامر کے بائيکاٹ ٹرینڈ نے اس فلم کے لیۓ مشکلات میں بہت اضافہ کر دیا ہے

اسی وجہ سے ساتھی اداکارہ کبری خان کو ہانیہ عامر کی مدد کے لیۓ آگے بڑھنا پڑا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ کے ذریعے ہانیہ عامر کا دفاع کرتے ہوۓ کہا ہے کہ

 

ہمیشہ تہزیب کی ایک لکیر ہوتی ہے جسے کبھی عبور نہیں کرنا چاہیۓ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی آپ کی ملکیت ہے تب بھی شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیۓ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو دوسرا بھی ردعمل کے طور پر اپن تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس تحفظ میں میرے نزدیک کوئی برائی نہیں ہے میں یہ سب اس لیۓ نہیں کہہ رہی کہ میں ہانیہ کی دوست ہوں بلکہ میں نے وہ سارا منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اگر ایک جوان لڑکی کسی کو اپنے ساتھ بیٹھنے سے منع کرتی ہے تو ہمیں اس کی پرائیوسی کا احترام کرنا چاہیۓ بہرحال سخت ردعمل آپ کے سارے امیج کو لمحوں میں برباد کر ڈالتا ہے 

یاد رہے کچھ دن قبل ہی اداکاراوں کو ساتھی اداکاروں اور دیگر افراد کی جانب سے ہراساں کیۓ جانے پر ہانیہ عامر نے اپنے  ٹوئٹس کے ذریعے اپنا نقطہ نظر تفصیل سے بیان کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا

پبلک فیگر ہونے کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پبلک پراپرٹی بن گۓ ہیں ہمارے فین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیۓ کہ ہماری بھی کوئی ذاتی زندگی ہے اس واقعے کے حوالے سے بھی ہانیہ کا یہ کہنا تھا کہ اگر کسی کو سوشل میڈیا پر کوئی ایسی ویڈیو نظر آۓ جس میں میں غصے کا اظہار کر رہی ہوں تو وہ جان لے کہ میں ایسا کیوں کر رہی ہوں کسی بھی عورت کے ساتھ برتاؤ کرنے کے کچھ ضابطے ہوتے ہیں اگر کوئی ان ضابطوں کا خیال نہیں رکھے گا تو پھر اسے اسی قسم کے ردعمل کے لیۓ تیار رہنا چاہیۓ 

ہانیہ عامر کے حوالے سے اس وقت سوشل میڈیا پر چلنے والی بائیکاٹ کی مہم سے اس کی فلم کس حد تک متاثر ہوتی ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرۓ گا مگر اس بات کا خیال ان اداکاروں کو چاہنے والوں کو بھی رکھنا چاہیۓ کہ وہ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے کسی دوسرے فرد کی شخصی آزادی متاثر ہو

To Top