صدیوں سے جاری بحث کا خاتمہ ہو گیا ۔ آخرکار بیوی اور گرل فرینڈ کا فرق سامنے آگیا

صدیوں سے جاری بحث کا خاتمہ ہو گیا ۔ آخرکار بیوی اور گرل فرینڈ کا فرق سامنے آگیا

صدیوں سے یہ سوال تمام معاشروں میں اٹھایا جاتا رہا ہے کہ آخر میاں بیوی کے تعلقات کے درمیان جو تیسری عورت ہوتی ہے اس کی کیا حیثیت ہوتی ہے کچھ لوگ اس کو رقیب کا نام دیتے ہیں اور کچھ لوگ اس کو گرل فرینڈ کہتے ہیں ۔ اس  کی تعریف اگر کسی عورت سے پوچھی جاۓ تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ جو عورت حرافہ یا کٹنی یا چلتر ہوتی ہے وہی گرل فرینڈ ہوتی ہے


اور اگر یہی سوال صنف مخالف سے پوچھا جاۓ تو ان کا جواب اس سے یکسر مختلف ہوتا ہے ان کے نزدیک گرل فرینڈ ایک ایسی عورت ہوتی ہے جو ان تمام خوبیوں کی حامل ہوتی ہے جو بیوی میں موجود نہیں ہوتی ہیں ۔

بیوی مصیبت ہوتی ہے گرل فرینڈ راحت ہوتی ہے

ہر وہ انسان جو بیوی کے ساتھ ساتھ ایک گرل فرینڈ کا بھی حامل ہوتا ہے اس کو اس بات کا اندازہ بہت قوی طور پر ہوتا ہے کہ بیوی درحقیقت ایک ذمہ داری کا نام ہے جب کہ گرل فرینڈ ایک خوشی کا نام ہے ۔

بیوی کا فون آتے ہی ماتھے پر سلوٹ اور گرل فرینڈ کا فون آتے ہی چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے

مردوں کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ بیوی نے فولن کیا تو یا تو یہ پوچھے گی کہ آج کیا پکاؤں یا کہۓ گی سبزی ختم ہے لیتے آئیۓ گا یا پھر میں امی کے گھر جاؤں جب کہ گرل فرینڈ فون کرتی ہے تو کہتی ہے کہ مس کر رہی ہے یا پھر فلم دیکھنے چلیں کب سے ساتھ وقت نہیں گزارا کہیں ساتھ چلیں

بیوی کی باتوں سے پیاز کی اور گرل فرینڈ کی باتوں سے پیار کی خوشبو آتی ہے

بیوی کی باتوں میں بھی لہسن پیاز کی بدبو رچ بس جاتی ہے کچن کی باتوں اور گھر کے مسائل سے بھری گفتگو بیوی کو انتہائی بور بنا ڈالتی ہیں جب کہ دوست کی باتیں نۓ ماحول سے آراستہ ہوتی ہے اس کی ہر موضوع پر فصاحت اور بلاغت اس کا شرمانا للجانا سب کچھ بے مثال ہوتا ہے

بیوی سے ساتھ عمر بھر کا جب کہ گرل فرینڈ آنی جانی ہوتی ہے

ساری باتوں کے باوجود اس بات کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ بیوی سے ساتھ زندگي بھر کا ہوتا ہے جب کہ  دوستیں تو  تبدیل کی جا سکتی ہے ۔ جب کہ اس کے مقابلے میں بیوی تبدیل کرنا ایک بہت ہی مشکل عمل ہے کیوں گہ آخر وہ بچوں کی ماں اور گھر کی ملکہ بھی ہوتی ہے ۔

انسان فطری طور پر ہر اسی چیز کی جانب متوجہ ہوتا ہے جو کہ اس کے لیۓ قابل حصول نہیں ہوتی اسی سبب گرل فرینڈ سب ہی کو اچھی لگتی ہے

 

 

To Top