گلگت بلتستان کے طالب علم دلاور عباس کا قتل ہم سب کے لیۓ ایک سوالیہ نشان ہے

گلگت بلتستان کے طالب علم دلاور عباس کا قتل ہم سب کے لیۓ ایک سوالیہ نشان ہے

گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے پانچویں صوبے کے طور پر ہوتا ہے جس کو پچھلی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملک کے پانچویں صوبے کا درجہ دیا گیا تھا ۔اس اعلان کے بعد ہ امید قائم ہوگئی تھی کہ اس پسماندہ علاقے کے اندر بھی ترقی کے سفر کا آغاز ہو سکے گا ۔

ایک پسماندہ علاقے کو ترقی کے لیۓ جن لازمی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے ان میں تعلیم علاج تحفظ اور روزگار کے ذرائع شامل ہیں مگر بد قسمتی سے معدنیات اور سیاحت کے تمام وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ملک کا یہ صوبہ ایک پسماندہ ترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے ۔یہاں کے بچے اس بات کے لیۓ مجبور ہیں کہ وہ اعلی تعلیم کے حصول کے لیۓ بڑے صوبوں کا رخ کرے ۔مگر بدقسمتی سے وہاں بھی ان کا شمار دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر کیا جاتا ہے ۔

مسلک کی بنیاد پر اس علاقے کے لوگوں کے اور بڑے صوبوں کے رہنے والوں کے درمیان تفریق کا عمل واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ان کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں کی آواز کبھی کبھار میڈیا پر یا پھر سوشل میڈیا پر نظر آجاتی ہے مگر اس کو کبھی درغور اعتنا نہیں سمجھا گیا ہے ۔

مگر گزشتہ دن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے شہر لاہور میں ایک کرکٹ گراونڈ میں گلگت بلتستان کے طالب علم دلاور عباس کے قتل نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق دلاور عباس کا گراونڈ میں کچھ لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے پر جھگڑا ہوا جس پر تقریبا بیس لڑکوں نے بلوں کے وار کر کے دلاور حباس کو اس بری طرح ذودوکوب کیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا ۔

جب دلاور عباس کے مالک مکان اور اس کے دوستوں کی مدعیت میں ان لڑکوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی تو علاقے کے ایم این اے کی ہدایت پر پولیس نے ان لڑکوں کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا ۔ اور چونکہ گلگت بلتستان کی جانب سے بھی پنجاب حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اس سبب دلاور عباس کے قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں ۔

حکمرانوں کی اس بے حسی کے سبب گلگت بلتستان سے آکر پڑھنے والے طالب علموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر بے حسی کا یہ مظاہرہ ابھی تک جاری ہے۔ اس ظلم کے خلاف ان طالب علموں نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہیش ٹیگ دلاور عباس کے ساتھ ٹرینڈ چل رہا ہے ۔امید ہے کہ سوشل میڈیا کی طاقت سے آواز ارباب اقتدار کے اونچے تک پہنچ سکے گی ۔

To Top