کراچی میں جرگوں کے فیصلوں کے مطابق غیرت کے نام پر قتل، قانون کے لۓ لمحہ فکریہ

کراچی میں جرگوں کے فیصلوں کے مطابق غیرت کے نام پر قتل، قانون کے لۓ لمحہ فکریہ

پاکستانی قوانین کے مطابق جن باتوں کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں چوری ، ڈاکہ ،قتل وغیرہ شامل ہیں ۔ مگر کچھ جرائم ایسے بھی ہیں جو کہ قانون کے مطابق تو جرم نہیں مگر ہمارے معاشرے کی نظر میں ان کو انتہائی سنگین جرم مانا جاتا ہے۔ اور جس کی سزا غیرت والوں کی طرف سے قتل  کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی ۔

ان جرائم میں سے ایک بڑا جرم پسند کی شادی ہے ۔جس کا حق آج بھی ہمارے معاشرے میں کسی بالغ انسان کو بھی حاصل نہیں ہے ۔ اور اس جرم کے نتیجے میں اکثر و بیشتر ملک کے طول و عرض میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے نظر آتے ہیں۔ ماضی بعید میں قتل کے یہ فیصلے پسماندہ علاقوں تک ہی محدود نظر آتے تھے مگر رواں سال کراچی جیسے شہر میں بھی ایسے دو واقعات اب تک سامنے آچکے ہیں۔ جب کہ شادی کرنے والے جوڑے کو ان کے اپنے باپ اور بھائیوں نے جرگے کے فیصلے کے بعدغیرت کے نام پر  قتل کر دیا۔

’’ کراچی میں جرگے کے فیصلے پر پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قتل۔…

’’ کراچی میں جرگے کے فیصلے پر پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قتل۔۔۔! ‘‘مزید ویڈیوز دیکھئے: https://www.express.pk/videos/

Posted by Express News on Monday, November 27, 2017

تازہ ترین واقعہ کراچی کے علاقے مومن آباد میں پیش آیا جس میں بائیس سالہ حسینہ کو اس کے اپنے والد نے چوبیس سالہ عبدالقادر سے شادی کرنے کے جرم میں اس کے شوہر سمیت قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق حسینہ کی منگنی اس کے خاندان والوں نے کہیں کر رکھی تھی۔ مگر وہ اس رشتے سے راضی نہ تھی۔

وہ اپنے پھو پھی کے بیٹے عبد القادر سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ جو پہلے ہی سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا ۔ خاندان کی مخالفت کے باوجود ان دونوں نے نکاح کرلیا ۔ اور مومن آباد کے علاقے میں ایک کمرے کے کراۓ کے گھر میں رہائش اختیار کر لی ۔ جو کہ ان کے خاندان والوں کی غیرت کو قبول نہ تھی ۔

لڑکی کے باپ مسکین شاہ نے جرگے کے فیصلے کے مطابق ان دونوں کو ان کے گھر میں آکر حسینہ کے بھائیوں کی مدد سے چھریوں کے وار کر کے نہ صرف قتل کر دیا ۔ بلکہ ان کو قتل کرنے کے بعد عبد القادر کے باپ کو اس سے آگاہ بھی کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے مقتولین کو بوریوں میں بند کر کے راتوں رات قبرستان لے جا کر دفن کر دیا ۔

واقعہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب مالک مکان نے اس مکان میں خون کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوۓ اسکی اطلاع قریبی تھانے میں دی ۔ تحقیقات کے بعد نہ صرف پولیس نے دونوں لاشیں بھی برآمد کر لیں بلکہ قتل کے الزام میں دس افراد کو بھی حراست میں لے لیا ۔تاہم مرکزی ملزم مسکین شاہ تاحال مفرور ہے ۔

یاد رہے اس سے قبل بھی کراچی ہی میں جرگے کے فیصلے کے تحت ایک جوڑے کو کرنٹ لگا کر بھی مار دیا گیا تھا۔ غیرت کے نام پر جرگے کے ان فیصلوں کے سبب ہونے والے قتل اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد ہم سب کے لۓ ایک سوالیہ نشان ہے ۔ ایک ذی شعور انسان اس امر کا فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ ملک کے اندر حقیقی معنوں میں کون سا قانون نافذ عمل ہے ۔

کیوںکہ پاکستانی قانون کے مطابق کوئی بھی بالغ شہری اپنی مرضی سے اپنی شادی کا فیھلہ کر سکتا ہے اور ایسا کرنا کوئی جرم نہیں ۔جب کہ جرگے کے قانون کے مطابق پسند کی شادی کی سزا صرف اور صرف موت ہے ۔اور یہ خاندانی غیرت پر ایک شدید حملہ ہے ۔جس کے بدلے میں کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ۔

To Top