"مجھے تو بس اس پیسے سے مطلب تھا جو میری بیٹی مجھے لا کے دیتی تھی"، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی سبق آموز کہانی

“مجھے تو بس اس پیسے سے مطلب تھا جو میری بیٹی مجھے لا کے دیتی تھی”، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی سبق آموز کہانی

میرے گھر کام کرنے والی ماسی آج دس دن کی چھٹی کے بعد آئی تھی وہ میرے پاس سر جھکاۓ بیٹھی تھی، اس کے آنسو ہی تھم نہیں رہے تھے وہ روتے ہوۓ بار بار ایک ہی بات کۓ جا رہی تھی کہ سب اس کا کیا دھرا ہے اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی اور بچہ کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا تھا۔

مجھے لگا کہ اس کے رونے کی وجہ وہ صدمے اور غم ہیں جو اس کی بیٹی کا گھر اجڑنے سے اس کو ملے ہیں ۔ مگر جب اس نے بار بار یہ تکرار کی کہ اس نے اپنی بیٹی کا گھر اجاڑا ہے اسی کی وجہ سے آج بچے زندہ نہیں ہیں تو مجھ میں تجسس بیدار ہوا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ ایسے کہہ رہی ہے ۔اس کی کہانی اسی کی زبانی سنۓ ۔

8

Source: Dawn

 

میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور شادی بھی ایک ایسے ہی انسان سے ہوئی جو کام کم اور چونچلے زیادہ کرتا تھا ۔ دن بھر یا تو آرام کرتا رہتا یا آئینہ دیکھتا رہتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے اس کو بہت پیاری شکل دی تھی مگر شادی کے بعد خالی شکل سے پیٹ نہیں بھرتا لہذا گھر میں ہر وقت کا فساد شروع ہو گیا میں بھی کم عمر تھی سوچا تھا کہ شوہر کے گھر سب خواہشیں پوری ہوں گی جب نہیں ہوئیں تو لاوہ اندر ہی اندر پکنے لگا۔

شوہر کا بھی آگے پیچھے کوئی نہ تھا اور مجھے لگتا تھا کہ ماں باپ نے بھی ایک کھانے والے کے کم ہونے کا شکر کیا اور پلٹ کر پوچھا تک نہیں ۔ اس ایک کمرے کی کوٹھڑی میں ہم دونوں ہی ہر وقت ایک دوسرے سے سر ٹکراتے رہتے تھے ۔

اسی دوران اللہ نے ایک بیٹی سے بھی نواز دیا جو ہو بہو باپ کی شکل تھی وہی حسین نیلی آنکھیں ، گلابی رنگت اس کو پا کر میں بھی کچھ بہل گئی۔ اپنی بھوک تو برداشت کر لیتی تھی مگر بیٹی کی بھوک برداشت نہ کر پائی اور اس کو لے کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کر دیا اس کی پیاری اور معصوم شکل کے سبب نہ صرف سب اس کو پیار کرتے کرتے بلکہ اس کو ملنے والے تحفے اور پیسے مجھے بھی سکھ دینے لگے۔

10

میرے اندر کی چھپی ہوئی لالچی ،خواہشوں کی ہوس کی ماری عورت جاگ گئی اب میں اور کچھ کروں نہ کروں اپنی بیٹی کو خوب صاف ستھرا اور چمکا کے رکھتی تاکہ کسی کو اس کے آنے پر کو‎ئی اعتراض نہ ہو اور سب اس کو پیار کریں۔ پتہ ہی نہیں چلا کب وہ جوان ہو گئی مجھے تو بس اس پیسے سے مطلب تھا جو وہ مجھے لا کے دیتی تھی۔
اس کے رشتے بھی آنے لگے تھے مگر مجھے ڈر تھا کہ اگر اس کی شادی کر دی تو میرے خرچے کیسے پورے ہوں گے مگر اس کے باپ نے زبردستی میری مخالفت کے باوجود اس کی شادی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی جو کہ ہم سے ذیادہ پیسے والا تھا میری بیٹی بھی شادی کے بعد خوش تھی مگر میں خالی ہاتھ رہ گئی تھی جو مجھے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

11

میں نے اپنی بیٹی کو دن رات اس کے سسرال والوں کے خلاف بہکانا شروع کر دیا اس کا ایک بیٹا بھی ہو گیا میں نے اس کو احساس دلایا کہ اس کے شوہر نے اس کو گھر میں قید کر ڈالا ہے ۔وہ اس کی خوبصورتی کے سبب اس سے احساس کمتری میں مبتلا ہے جب کہ وہ میری بیٹی کا بہت خیال رکھتا تھا اس کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا مگر میری ضرورتوں کا تو کوئی پورا کرنے والا نہ رہا تھا اس لۓ ایک چھوٹی سی بات کو بنیاد بنا کر میں نے اپنی بیٹی کو گھر بٹھا لیا اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
میرا داماد میرے آگے بہت رویا گڑگڑایا مگر میرا فیصلہ اٹل تھا مجبورا اس نے میری بیٹی کو طلاق دی اور ایک سال کا بیٹا ساتھ لے گیا۔ گھر جا کر اس کو بھی مار ڈالا اور خود بھی خودکشی کر لی ۔آج میری بیٹی ایک زندہ لاش کی طرح میرے ساتھ ہے اب مجھے اس کے لۓ کام کرنا ہے میری لالچ نے اس کو برباد کر دیا یہ کہتے ہوۓ وہ اٹھ کر صفائی کرنے لگی اور میں سوچتی رہ گئی کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top