معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اب ان کے ساتھ سرعام غیر اخلاقی حرکات

معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اب ان کے ساتھ سرعام غیر اخلاقی حرکات

پاکستان میں پے درپے ہونے والے لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات نے ہم سب کو  خوف میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہمارے اندر سے کسی بھی رشے تعلق کے حوالے سے ایک شک اور خوف پیدا ہو گیا ہے ۔ اب اس وقت ہم اس معاملے میں کسی بھی فرد پر اعتبار کرنے کے قابل نہیں رہے ۔

بلوچستان میں ایک سگے بھائی کی طرف سے تیرہ سالہ بہن کی آبروریزی کے بعد قتل نے ہمارے قریبی اور خونی رشتوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے ایسے میں اگر کوئی بچوں کی طرف پیار سے بھی دیکھتا ہے تو ہم اس کو شک ہی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

نقیب اللہ محسود کے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد کراچی میں محسود قبیلے کی جانب سے جرگے کا اہتمام کیا گیا اس جرگے میں تمام سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی اس جرگے کی اختتامی تقریب اکتیس جنوری کو منعقد کی گئی جس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر نثار محمد جن کا تعلق خیبر پختونخواہ سے تھا اور جو سینٹ میں انسانی حقوق کے چئیر مین بھی ہیں  نے شرکت کی ۔

اس تقریب میں نقیب اللہ محسود کے علاوہ جعلی مقابلوں میں مارے جانے والے دوسرے لوگوں کے لواحقین بھی موجود تھے ۔ اس موقعے پر نقیب اللہ محسود  کی ننھی بہن بینظیر بھی موجود تھی ۔ سینیٹر صاحب نے اس بچی کو اپنی تقریر کے دوران اپنے ساتھ کھڑا کر لیا اور اس کے بعد محبت اور شفقت کے احساس میں یا پھر کسی اور جزبے کے تحت اپنے ہاتھ کو اس کے چہرے اور پھر اس کے کندھوں اور اس کے سینے پر پھیرنا شروع کر دیا ۔

ان کی اس حرکت کو وہاں موجود لوگوں کے کیمروں نے محفوظ کر لیا جس کا انہیں کم ازکم اس وقت تک اندازہ نہ ہو سکا اور اس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ۔جس پر ہر ایک کی جانب سے سوال اٹھنے لگے کہ ایک انسان جو کہ سینیٹر کی اعلی سیٹ پر براجمان ہے اتنے بہت سارے لوگوں کے ساتھ بچی کے ساتھ اس قسم کی حرکات کر رہا تھا ۔اور اس وقت میں ویڈیو بنانے کے علاوہ کسی نے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا جو واقعی حیران کن ہے ۔

 

اس موقعے پر پاک سر زمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعے سینٹ کے چئر مین رضا ہارون سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا جاۓ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سینیٹر صاحب کے اس عمل کو غلط نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور ان کے اس عمل میں کسی برے ارادے کا کوئی دخل نہ تھا ۔

بہر حال نیت کچھ بھی تھی مگر دیکھنے والوں کو ان کی یہ حرکت قطعی مناسب نہیں لگی جس کا اظہار لوگ سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں

To Top