اسلام آباد میں گھر کے ملازم نے مالکہ کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے بعد۔۔۔۔۔ بھی کرڈالا

اسلام آباد میں گھر کے ملازم نے مالکہ کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے بعد۔۔۔۔۔ بھی کرڈالا

عام طور پر ہمیشہ یہی سننے میں آتا ہے کہ مالکان گھریلو ملازمین کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور بعض اوقات تو ان سے جنسی زیادتی کے بھی مرتکب ہوتےہیں ایسی خبریں آۓ دن میڈیا کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی جاتی رہی ہے

مگر حال ہی میں اسلام آباد میں اپنی نوعیت کے ایک انوکھے واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی گئي ہے  جس کے مطابق اسلام آباد کی ایک رہائشی خاتون (جس کی شناخت پوشیدہ رکھی گئي ہے ) کو ان کے گھریلو ملازم نے نہ صرف جسمانی زيادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی نازیبا حالت میں تصاویر لے کر اس کو بلیک میل بھی کیا

تفصیلات کے مطابق گھریلو ملازم جس کا نام اسلام آباد پولیس کی جانب سے اسد بتایا جا رہا ہے ایک گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا اس مقصد کے لیۓ گھر والوں نے اس کو گھر کے اوپر والے حصے میں رہائش بھی فراہم کر رکھی تھی جب کے مالکان گھر کے نچلے حصے میں اپنی چار بیٹیوں کے ساتھ رہائش پزیر تھے

متاثرہ خاتون کے مطابق گيارہ ستمبر کے دن جب وہ اپنی دو بچیوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد واپس گھرآئيں تو ملازم اسد ڈپلیکیٹ چابی کی مدد سے ان کے گھر میں داخل ہو گیا اور ان کو زبردستی کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کر دیا جب کہ کمرے سے باہر ان کی دونوں چھوٹی بچیاں کھیل رہی تھیں

اس کے بعد اسد نے اپنی مالکہ کو نہ صرف جسمانی زيادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مالکہ کی نازیبا حالت میں اپنے موبائل سے تصاویر بھی لے لیں ۔ اس کے بعد اسد نے وقتا فوقتا اپنی مالکہ کو ان تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور وقت بے وقت ان کو فون کر کے دھمکیاں بھی دیتا رہا

ان حالات میں مالکہ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو گئی جس پر جب ان کے شوہر نے ان سے پوچھا تو اس نے تمام واقعات سے اپنے شوہر کو آگاہ کر دیا جس پر اس مالکہ کے شوہر نے پولیس میں ایف آئی آر درج کروا دی جس کے بعد اسلام اباد پولیس نے کاروائی کرتے ہوۓ ملزم اسد کو گرفتار کر لیا

 

ابتدائی تفتیش میں اسد نے اقرار جرم بھی کر لیا مگر اس کے موبائل میں سے کوئي تصاویر برآمد نہیں ہو سکیں ملزم اسد کا کہنا تھا کہ اس کے موبائل میں اس کی مالکہ کی ایک ہی تصویر تھی جس کو اس نے ڈیلیٹ کر دیا تھا تاہم پولیس اسد سے اس حوالے سے مذید تفتیش کر رہی ہے

 

To Top