گھریلو ماحول میں تناؤ کے اسباب اور ان کا حل

گھریلو ماحول میں تناؤ کے اسباب اور ان کا حل

پاکستانی معاشرے میں گھر کو ایک بنیادی اساس کی حیثیت حاصل ہے ۔جس میں میاں بیوی اہم ترین محور ہیں ۔ ان کے باہمی تعلقات ہی درحقیقت معاشرے کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں ۔ اگر گھریلو ماحول خوشگوار اور پر اعتماد ہوگا تو ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے بچے مثبت فطرت کے حامل ہوتے ہیں ۔

اس کے مقابلے میں وہ بچے جو ماں باپ کے باہمی تناؤ میں پروان چڑھتے ہیں ۔ان کی طبیعت میں شدت اور تغریب کا عنصر بہت واضح ہوتا ہے ۔گھریلو ماحول میں تناؤ کے کچھ اسباب ایسے ہیں جن پر نظر ثانی کر کے نہ صرف گھر کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

 

فرائض کی ادائیگی کا خیال رکھیں 

13

Source: India Opines

شریعت میں ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا گیا ہے اہ وہ اپنے فرائض ادا کرے حقوق کے مطالبے پر زور نہیں دیا گیا ۔رسول اللہ ّنے بھی اپنی تمام تعلیمات میں ہر ایک کو صرف ان کے فرائض بتاۓ گۓ ہیں ۔ زندگی کی گاڑی اسی طرح چلتی ہے کہ دونوں اپنے فرائص کا احساس کریں ۔ اپنے حقوق کا بار بار تقاضا نہ کریں ۔

مگر بدقسمتی سے آج کی دنیا حقوق کے مطالبے کی دنیا ہے ۔حقوق کے مطالبے کے لۓ تحریکیں چلتی ہیں ریلیاں نکلتی ہیں مگر آج تک کسی نے فرائض کی ادائيگی کے لۓ کوئی تنظیم نہیں بنائی ہو گی ۔گھریلو ماحول کے اندر عدم توازن کی ایک بنیادی وجہ فرائض کی عدم ادائیگی اور حقوق کا تقاضا بھی ہے ۔

 

ایک دوسرے پر اعتماد کریں 

16

Source: Tumblr

رسول اکرم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا باہمی اعتماد گھر کے ماحول کے لۓ انتہائی لازمی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس امر کا خیال رکھا جاۓ کہ دوسرے فریق پر اعتماد کریں اس کو اس کا یقین دلائیں اسی صورت میں وہ آپ پر بھی اعتبار کرے ۔

آج کل سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو بہت آسان کر دیا ہے وہیں پر اس سبب گھریلو ماحول میں تناؤ کا سبب بھی بنا ہے لہذا اس حوالے سے اس امر کا خیال رکھنا چاہیۓ کہ فریقین اس حوالے سے ایک دوسرے کی پرائیوسی کا خیال رکھیں ۔ زیادہ ٹوہ لینے سے بھی باہمی تعلقات میں دراڑ کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ لہذا اس سے اجتناب برتنا چاہیۓ.

ایک دوسرے کا احترام کریں

17

Source: News18.com

آج کی دنیا نے اسلامی قوانین کو فراموش کر کے عورت اور مرد کی مساوات کا جو پرچار کر رکھا ہے اس سبب گھر کے اندر بھی ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ مرد خود کو حاکم سمجھ بیٹھا ہے اور عورت اس حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جس کے سبب تعلقات کھنچاؤ کا شکار ہوتے ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ مرد عورتوں پر نگہبان اور منتظم ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں نے ان کی ذمہ داریوں کے سبب گھر کا امیر مقرر کیا ہے ۔۔ اسی سبب وہ احترام اور عزت کے مستحق ہیں ۔ لیکن اس بات کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس بنیاد پر عورت کو کمتر سمجھیں ۔

ان تمام نکات کا خیال رکھ کر نہ صرف خانگی زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بہترین انداز میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے ۔

To Top