معاشرہ کب تک غریب کی بچیوں کے ساتھ ہونے والے ایسی زیادتیوں پر چپ رہے گا؟ معصوم طیبہ کا سوال

معاشرہ کب تک غریب کی بچیوں کے ساتھ ہونے والے ایسی زیادتیوں پر چپ رہے گا؟ معصوم طیبہ کا سوال

میں توآپ کی بیٹی ہوں نا ماں؟ میرا جنم تو آپ کی کوکھ سے ہوا، میرے جسم و جاں کو آپ نے اپنے لہو سے سینچا تھا۔ ماں تمہیں یاد ہے نا سب،تم ہی نے تو میرا نام طیبہ رکھا تھا ۔ مجھےتو پتہ ہی نہ تھا کہ میں تمہارے لۓ بوجھ تھی ۔  کیوں کہ میں ایک غریب گھر میں پیدا ہوئی تھی اگر بوجھ سمجھنا تھا تو پیدا کیوں کیا تھا ماں ؟

میرا رونا آپ کو برا لگتا تھا میری بھوک کا آپ کے پاس علاج نہ تھا اس سب کی اتنی بڑی سزا آپ نے مجھے کیوں دی؟ کیوں ان لوگوں کے حوالے کیا جن کے سینوں میں دل کی جگہ پتھر تھے ؟ چند پیسوں کے عوض آپ نے میری  غریب معصومیت کا سودا کیوں کیا

آپ نے اور ابو نے مجھے جن لوگوں کے پاس چھوڑا وہ بہت ظالم تھے میری کمزور ہڈیاں ان کے ظلم کا م‍قابلہ نہیں کر سکتیں ماں مجھے بہت ڈر لگتا تھا  مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی فرش بہت ٹھنڈا ہوتا تھا اور میرے نصیب میں تو اب بھی وہی بھوک لکھی تھی جو آپ کے ساتھ رہتے ہوۓ تھی.

08

یہ لوگ مجھے کھانا بھی نہیں دیتے ۔ کیاساری  غریب بیٹیاں دنیا میں میرے جیسا ہی نصیب لے کر پیدا ہوتی ہیں ؟ کیا بیٹی ہونا ایک گالی ہے ؟ اس سے تو اچھا تھا کہ آپ نے اور ابو نے مجھے زندہ دفن کر دیا ہوتا ۔ ایک ہی بار رو لیتی روز روز مرنے سے تو جان چھٹ جاتی نا ۔

دو سال گزر گۓ مجھ سے ملنے بھی نہیں آئیں آپ، اتنا بڑا دل کیسے کر لیا آپ نے ۔ ہر روز میں رو رو کر آپ کو پکارتی تھی مگر میری پکار سننے والا میرے آنسوں کو صاف کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔

ماں میری عمر کے بچے تو اسکول جاتے ہیں ، ماں باپ سے لاڈ پیار کرتے ہیں مگر مجھے صبح ہوتے ہی کاموں کی ایک لسٹ تھما دی جاتی تھی ۔ ماں چھاڑو بہت بڑا ہوتا تھا میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اس کو ٹھیک سے نہیں تھام سکتے تھے اس میں میرا قصور تو نہ تھا.

مگر اس جرم کی سزا مجھے روز بھگتنی پڑتی تھی کام ٹھیک سے نہ کر سکنے پر میرا کھانا بند ہو جاتا تھا  ۔

1

ماں میں نے ان کا جھاڑو گم نہیں کیا تھا  مگر اس کی سزا بھی انہوں نے مجھے ہی دی میرے ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو جلتی آگ پر رکھ دیا میں بہت روئی چلائی مگر ان کو رحم نہیں آیا ۔ ماں جلنے کی تکلیف کیا ہوتی ہے تمہیں تو ضرور پتہ ہو گا میرے ہاتھوں کے ساتھ تمہارا کلیجہ بھی تو جلا ہو گا ۔ چولھے پر پڑا ہوا چمچہ جب میری آنکھ پر لگا تو مجھے لگا شاید موت اسی کو کہتے ہیں ہر طرف تاریکی چھا گئی تھی میں نے بلک بلک کر ماں تمہیں پکارا تھا کہاں تھیں ماں تم؟

ماں مجھے بھلے کھانا مت دینا میں اب تم سے کھانا نہیں مانگوں گی، کسی چیز کی ضد نہ کروں گی بھلے مجھے اسکول بھی نہ بھیجنا مگر خود سے دور نہ کرنا ۔یہاں اپنی ماں کے علاوہ بچوں کا کوئی سہارا نہیں ہوتا ۔ مجھے خود سے دور نہ کرنا ۔مجھے خود سے دور نہ کرنا۔۔۔

To Top