کیا غریبوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی صاحب ؟؟

کیا غریبوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی صاحب ؟؟

مسجد سے نماز پڑھ کر نکلتے ہوۓ میں جوتے پہن رہا تھا کہ اسی وقت ایک چھوٹے سے بچے کو گود میں لیۓ برقعہ میں ملبوس ایک فقیرنی نے میری جانب ہاتھ پھیلا دیۓ ۔ اس کے جھلسے ہوۓ ہاتھ کو دیکھ کر مین ایک دم چونک سا گیا

میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس کے جلے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر مجھے ابکائی آگئی ۔ جگہ جگہ سے ادھڑا ہوا گوشت اور اس کے سبب ایک آنکھ بالکل ختم ہو چکی تھی دوسری آنکھ کے اوپر بھی جلی ہوئی کھال تھی جس کے کناروں سے وہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی

اس کے اس خوفناک چہرے کو دیکھ کر میں ایک دم خوفزدہ ہو گئی تھی ۔ میری نظر جیسے ہی اس کی گود میں موجود بچے پر پڑی میں حیران رہ گیا ۔ وہ بچہ بہت ہی خوبصورت تھا اتنی بدصورت عورت کا اتنا خوبصورت بچہ ! میری چھٹی حس نے فورا الارم بجا دیا


مجھے لگا کہ اس بات میں کوئی کہانی ہے اور کہانی کی تلاش کے لیۓ میں کچھ بھی کر سکتا تھا اسی وجہ سے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اس فقیرنی سے کہا کہ میں تمھیں زیادہ پیسے دے سکتا ہوں اگر تم میرے ساتھ گھر چلو

یہ سنتے ہی وہ ایک دم پیچھے ہو گئی کہنے لگی نہیں صاحب میں یہ کام نہیں کرتی آپ بھلے مجھے بھیک مت دو مگر میں کہیں نہیں جاؤں گی آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی ۔ میں نے اس کو وہیں رکے رہنے کا اشارہ کیا اور گھر کی جانب بھاگا

بیگم کے ہاتھ پیر جوڑ کر اس کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی لے کر مسجد کی جانب بڑھا وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی جہاں میں اس کو چھوڑ کر گیا تھا اس نے گاڑی میں جب میری بیوی کو دیکھا تو اس کا مجھ پر تھوڑا اعتماد بحال ہوا

اس کے بعد جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس کی گود میں موجود یہ بچہ کس کا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ کہنے لگی صاحب یہ میرا ہی بچہ ہے اس کی شکل پر مت جائيں یہ بالکل اپنے باپ پر گیا ہے جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے تو  اس نے اس بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا صاحب میرا یہ بچہ حرامی ہے اور حرامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا

میں ایک دم چونک سا گیا اس سے پوچھا کہ اس کی اس بات کا کیا مطلب ہے اس کےجواب میں اس نے جو کہانی سنائی اسی کی زبانی سنیۓ

ہم لوگ اوڈھ کہلاۓ جاتے ہیں ہمارا کوئی ایک ٹھکانہ نہیں ہوتا اپنے خاندان اور اپنے گھر کے ساتھ ہم لوگ سفر میں رہتے ہیں جہاں جگہ ملے خیمے گاڑھ لیتے ہیں اور اس کے بعد کچھ دن کے بعد دوبارہ سفر شروع ہو جاتا ہے ۔ میری ماں میری پیدائش کے وقت ہی مر گئی تھی اور میرے باپ کو نہ جانے میری ماں سے کیسا عشق تھا کہ اس نے اس کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہ کی اپنی پوری زندگی بس میرے نام کر دی

میں پورے قبیلے کی ممتاز ترین لڑکی تھی کیوںکہ میرے باپ نے مجھے بہت لاڈ سے پالا تھا نہ تو میں قبیلے کے باقی بچوں کی طرح بھیک مانگنے جاتی تھی نہ اترن پہنتی تھی اور نہ ہی جھوٹا کھاتی تھی میرا باپ خود کچھ بھی کھاتا مگر میرے کھانے پہننے کا بہت خیال رکھا

جب میں نے جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو یہ احساس میرے اندر سرایت کر گیا کہ میں سب سے الگ ہوں اللہ نے شکل بھی اچھی دی تھی اسی وجہ سے میں نے خواب بھی بڑے بڑے دیکھنے شروع کر دیۓ میرا دل چاہتا تھا کہ میرا ایک گھر ہو مجھے اس طرح جگہ جگہ خیمے نہ گاڑھنے پڑیں

اس گھر میں میرا ایک ساتھی ہو جو مجھ سے بہت پیار کرۓ پھر میرے بچے ہوں جو صاف ستھرے کپڑے پہن کر اسکول جائیں ایک دن مجھے میرا خوابوں کا شہزادہ مل ہی گیا اس بار ہم نے ایک بڑے شہر کے کنارے پر اپنا ٹھکانہ بنایا تھا

ایک دن میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جب اس شہر کی سیر کو گئی تو وہاں وہ بھی اپنے دوستو کے ساتھ آیا ہوا تھا مجھے لگا کہ اوپر والے نے اس جگہ ہم دونوں کو ملانے ہی بلایا تھا جیسے ہی ہماری نظریں آپس میں ملیں تو ہماری بچھڑی روحوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا اور اپنا آپ ایک دوسرے کو سونپ دیا ۔

اس کے بعد کب تعارف ہوا کب بات بڑھی کچھ ہوش نہیں بس اتنا یاد ہے کہ جب جب سانس آتی اس کا نام لے کر آتی ہم دریا کے کنارے گھنٹوں بیٹھے رہتے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے ۔ اس کا باپ اس علاقے کا بہت بڑا لیڈر تھا

وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا اس کو یقین تھا کہ اس کا باپ اس کی کوئی بات کبھی نہیں ٹالتا تو یہ بھی نہیں ٹالے گا ۔ایک بار وہ مجھے اپنا وہ گھر دکھانے بھی لے گیا جہاں اس نے مجھے شادی کے بعد رکھنا تھا اس دن تنہائی میں ہمارے بیچ کے سب پردے ہٹ گۓ

مگر مجھے یقین تھا کہ وہ جھوٹا نہیں اس وجہ سے مجھے کوئی پریشانی نہ تھی اس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ آج ہی اپنے باپ سے ہماری شادی کی بات کرے گا ۔ اس دن جب میں گھر گئی تو میں بہت خوش تھی میں نے اپنے باپ کو ساری بات بتا دی

میرے باپ نے سب سننے کے بعد کہا کہ بیٹی یاد رکھنا ہمارے نصیب کے چکر کبھی ہمیں ایک جگہ ٹکنے نہیں دیں گے جس پر میں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا میری شادی ہو گئی تو میں تمھیں بھی اپنے پاس ہی رکھ لوں گی پھر اس طرح بھٹکنے نہیں دوں گی

دن تیزی سے گزرتے جا رہے تھےاس دن کے بعد میں نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی کئی بار میں دریا کنارے جا چکی تھی مگر وہ نہیں آیا تھا مجھے اپنی طبیعت بھی گری گری محسوس ہو رہی تھی اس دن جب میں دریا کے کنارے گئی تو وہ وہیں پر میرا انتظار کر رہا تھا

اس نے بتایا کہ اس کے ابا ہماری شادی کے لیۓ راضی نہیں ہو رہے مگر وہ ان کو منا کر ہی دم لے گا اس سے ملنے کے بعد میں واپس آرہی تھی کہ دو موٹر سائکل سوار میرے پیچھے سے آۓ اور انہوں نے میرے چہرے کی جانب ایک سیال سے اچھال دیا جس کے گرتے ہی مجھے یوں لگا کہ جیسے آگ نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو

اس کےبعد جب مجھے ہوش آیا تو وہ اذیتوں کی ایک طویل کہانی تھی ۔اسی دوران مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ میری کوکھ میں اس کا بچہ بھی ہے میں نے اپنے ابا کو اس کےنام اور اس کے پتے کا بتا کر اس کو بلوانے کی کوشش کی

وہ مجھے دیکھنے آ بھی گیا اس نے جب میری حالت دیکھی اور اس کو میرے امید سے ہونے کا پتہ چلا اس کے بعد وہ کبھی پلٹ کر نہ آیا ۔ پھر میں نے اس بچے کو جنم دیا یہ بچہ اپنے باپ کا ہم شکل ہے مگر کیا فائدہ جب کہ اس کا باپ اس کو اپنانے کو ہی تیار نہیں

ہم نے وہ شہر چھوڑ دیا میں نےاپنے ابا کو بھی اس سے رابطے سے منع کر دیا کیوںکہ ایک رات ہسپتال میں اس کے ابا کے بھیجے ہوۓ کچھ بندے آۓ تھے انہوں نے مجھے کہا کہ ابھی تو صرف منہ جلایا ہے اگر میں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا تو اس بار ان کا نشانہ میرا آخری سہارا یعنی میرا ابا ہو گا

اس کے بعد میں دوسرے شہر آگئی میرا ابا ٹھیک ہی کہتا تھا کہ ہمار ے نصیب میں چکر ہے جو ہمیں چین نہیں لینے دیتا اب میں نے بھی بڑے خواب دیکھنے چھوڑ دیۓ ہیں اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر ہی بناؤں گی جو مظلوم تو ہو سکتا ہے مگر ظالم نہیں ہو گا

اس کی کہانی سن کر میرے خون نے بہت جوش مارا میں نے سوجا کہ اس لیڈر کو جیل کی ہوا ضرور کھلانی چاہیۓ مگر جب اس کا نام سنا تو خاموشی سے اپنی بیوی کو گاڑی میں بٹھا کر واپس آگیا کیوں کہ میں اپنے بچے یتیم نہیں کروانا چاہتا تھا

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top