مشہور ماڈل فوزیہ امان نے اپنی تصاویر سے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آگ لگا دی

مشہور ماڈل فوزیہ امان نے اپنی تصاویر سے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آگ لگا دی

فوزیہ امان کا شمار پاکستان کی صف اول کی ماڈلز میں ہوتا ہے ۔فیشن کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی تقریب میں ان کی شرکت کو لازم و ملزوم تصور کیا جاتا ہے ۔خوبصورت اور سڈول جسم کی مالک فوزیہ امان جب ریمپ پر اٹھلاتی اور بل کھاتی کیٹ واک کرتی ہیں تو دیکھنے والوں کی دھڑکنوں میں ایک تلاطم سا برپا کر دیتی ہیں ۔

لوگ ان کو چاہتے ہیں اسی سبب سوشل میڈیا پر فیس بک ،انسٹا اور ٹوئٹر پر ان کو فالو کرنے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔وقت کے انتہائی قلیل سے دور میں وہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں ایک ٹرینڈ سیٹر کی پوزیشن حاصل کر چکی ہیں ۔ مگر پچھلے کچھ دنوں سے ان کے چاہنے والوں کو ان کے حوالے سے کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

حالیہ دنوں میں ان کی محتصر لباس میں کچھ تصاویر منظر عام پر آئیں سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آںے والی ان تصاویر کو ان کے فالو کرنے والوں کی جانب سے آڑے ہاتھوں لیا گیا اور اس پر آنے والے تبصرے اس ان کے چاہنے والوں کے غم و غصے کا واضح ثبوت ہیں ۔

کچھ افراد نے ان پر تبصرے کرتے ہوے فوزیہ امان پر لعنت ملامت کے تیر برساۓ

اس موقع پر فوزیہ امان کو خدا کا خوف دلایا اور ان کو اپنی معاشرت کی حدود کا بھی خیال دلایا

مغربی تہذیب کے مخالفین بھی اس موقع پر پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے فوزیہ امان کے اس مختصر لباس کو مغربی فیشن کی تقلید قرار دیا

کچھ لوگوں نے تو انتہا کرتے ہوۓ ملک میں آنے والے زلزلوں اور دیگر تباہیوں کا ذمہ دار فوزیہ امان کے مختصر لباس کو قرار دیا

جب کہ کچھ افراد کا یہ بھی ماننا تھا کہ ان تمام کمنٹس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ جو لوگ اس قسم کے فیشن کرتے ہیں ان کو لوگوں کی اس قسم کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے

یاد رہے اس سے قبل بھی اداکارہ صدف کنول کی سالگرہ کے موقعے پر بھی ایک ویڈیو بھی متنازعہ ہو چکی ہے ۔ شہرت حاصل کرنے کا یہ ذریعہ اگرچہ سستا ہے مگر یہ ٹاپ ماڈل اسی طریقے کا استعمال کر کے خبروں میں رہنے کا ہنر آزما رہی ہیں اب دیکھنا ہے کہ ان کا یہ ہنر کب تک ان کے کام آتا ہے ۔

https://www.youtube.com/watch?v=X7mk3MC4iCw#action=share

فوزیہ امان کے لباس پر اس طرح کے تبصرے کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنی راۓ کے اظہار کے لیۓ جس سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اس کا بھی کچھ ضابطہ اخلاق ہے ۔اس طرح کے تبصروں سے ان کو حاصل تو کچھ نہیں ہوتا مگر جس قسم کی زبان کا استعمال وہ دوسروں کے لیۓ کر رہے ہوتے ہیں وہ درحقیقت ان کی تربیت کا عکاس ہوتی ہے

To Top