فارم ہاوس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی سچی داستان

فارم ہاوس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی سچی داستان

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔میں نے جب یونی ورسٹی میں قدم رکھا تو زندگی میں پہلی بار مخلوط تعلیمی ماحول سے واسطہ پڑا آزاد ماحول اور یونی ورسٹی کی چکا چوند نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا میرے والد کی اپنی کریانہ کی دکان تھی جس سے گھر کا گزارا ہو رہا تھا ۔

میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور اپنے خاندان میں یونی ورسٹی جانے والی پہلی لڑکی بھی تھی ۔ اسی سبب میرے والد نے گھر کے کاموں کی ذمہ داریوں سے مجھے آزاد کر دیا تھا کیوںکہ ان کو لگتا تھا کہ شاید یونی ورسٹی کی تعلیم اتنی ہی مشکل ہوتی ہے ۔


ان کی اس لاعلمی کا میں نے پورا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا وقت بے وقت یونی ورسٹی کے نام پر کہیں بھی چلی جاتی تھی اور پوچھنے پر کہہ دیتی کہ پڑھائی کر رہی تھی ، لائبریری گئی تھی ، نوٹس ، اسائنمنٹ بنانے تھے ۔

میرے معصوم والدین میری ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا کرتے تھے ۔ اس دوران میری دوستی میرے ایک کلاس فیلو سے ہوگئی وہ ایک بڑے گھر کا لڑکا لگتا تھا اس کی گاڑی اس کا موبائل اور اس کا شاہانہ انداز اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں ۔

اس نے مجھ سے اظہار محبت تو نہیں کیا تھا مگر اس کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ مجھ پسند کرتا ہے میں نے دل ہی دل میں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھنے شروع کر دیۓ تھے ۔ایک دن اس نے مجھے اپنی سالگرہ میں شرکت کی دعوت دی ۔

اس کا کہنا تھا کہ اس نے اس سالگرہ میں اپنے خاص خاص دوستوں کو ہی بلایا ہے اسی وجہ سے وہ نہیں چاہتا کہ باقی یونی ورسٹی کے لوگوں کو پتہ چلے اس لیے میں اس دعوت کے بارے میں کسی کو نہ بتاؤں اس کی اس بات پر میں تو ہواؤں میں اڑنے لگی مجھے لگا کہ شاید اسی موقع پر وہ مجھے اپنے دل کا حال بھی کہہ ڈالے گا ۔

اس دن میں بہت اچھی طرح تیار ہوئی اور گھر والوں کو بتا دیا کہ یونی ورسٹی کے بعد مجھے لائبریری جانا ہے اس لیۓ لیٹ ہو جاؤں گی وہ پریشان نہ ہوں راستے ہی میں اس لڑکے نے مجھے پک کر لیا اور میں ہوا کی دوش پر اس کے ساتھ اس کی بڑی سی گاڑی میں اس فارم ہاؤس کی جانب رواں دواں تھی جہاں اس نے سالگرہ کا اہتمام کیا تھا ۔

جب ہم وہاں پہنچے تو ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی میرا یقین پختہ ہو گیا کہ آج وہ اپنے دل کی بات کہہ ڈالے گا ۔ وہاں پہنچ کر اس نے مجھے ایک لباس دیا کہ یہ پہن لوں وہ ایک مختصر سا لباس تھا جب میں نے تھوڑا پس و پیش کا مظاہرہ کیا تو اس نے بہت پیار سے کہا کہ میری خواہش پوری نہیں کرو گی ۔جس پر میں نے یہ سوچ کر پہن لیا کہ جب آگے زندگی اسی کے ساتھ گزارنی ہے تو اس سے کیا شرم

اس کی آنکھوں میں میرے لیۓ ستائش تھی پھر ہم نے ساتھ بیٹھ کر کولڈ ڈرنک پی اس کے بعد مجھ پر عجیب سی مدہوشی طاری ہو گئی ۔ جب میری آنکھ کھلی تو کوئی میرے اوپر چڑھا ہوا تھا میرا لباس تار تار ہو چکا تھا اور وہ اجنبی میرے جسم کو اپنی ہوس کی تکمیل کے لیۓ نوچتا جا رہا تھا ۔

اس کا مطلب پورا ہوا تو کوئی دوسرا آگیا اس طرح باری باری وہ چار لڑکے آتے گۓ اور میرے لٹے ہوۓ جسم سے اپنی ہوس کی تکمیل کرتے گۓ میں اپنے اندر اتنی طاقت بھی نہں پا رہی تھی کہ ان کو روک سکوں بس چپ چاپ اپنی تباہی کا نظارہ دیکھ رہی تھی ۔

ان میں وہ لڑکا بھی شامل تھا وہ ان سب کے ساتھ ہنس ہنس کر باتین کر رہا تھا ایک بار جب وہ اپنی باری پوری کرنے میرے اوپر چھکا تو مجھے امید پیدا ہوئی کہ شاید وہ مجھے بچانے آیا ہے مگر جب اس نے بھی مجھ سے اپنی ہوس ہی پوری کی تو وہ دیکھ کر میں ایک بار پھر بے ہوش ہو گئی ۔

جب ہوش آیا تو میں ہسپتال کے بستر پر تھی پولیس والے میرا بیان لینے آۓ میں نے اس لڑکے کا بتایا وہ لڑکا کسی سیاستدان کا نواسہ تھا ۔ جب پولیس والوں کو یہ پتہ چلا تو وہ پلٹ کر ایسے گۓ کہ پھر واپس نہ آۓ ۔مجھے میرے خوابوں نے رسوا کر دیا

میرے ماں باپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے میرے بہن بھائیوں نے بھی اسکول چھوڑ دیا ہے میری ایک غلطی کی سزا نے میرے پوری گھر کو برباد کر دیا

 

To Top