فیصل آباد میں ایک اور معصوم بچی ہوس کا نشانہ بن گئی لاش کی حالت دیکھ کر ہولناک انکشاف ہو گۓ

فیصل آباد میں ایک اور معصوم بچی ہوس کا نشانہ بن گئی لاش کی حالت دیکھ کر ہولناک انکشاف ہو گۓ

فیصل آباد میں سات سالہ معصوم بچی فزا کی گمشدگی کی خبر جب اس کی ماں تک پہنچی تو اس نے شروع میں تو یہی قیاس کیا ہو گا کہ اس کی بچی کھیلتے ہوۓ کسی دوست یا پڑوسی کے گھر چلی گئی ہو گی جیسا کہ اس عمر کے بچے دنیا کی گندگی سے بے پروا ہو کر اپنی معصومیت میں کبھی بھی کہیں بھی چلے جاتے ہیں

جب کافی دیر تک اس بچی کا پتہ نہ چلا تو تمام عزيز و اقارب نے مل کر اس کی تلاش شرو ع کر دی معصوم فزا کے والداشرف اپنی بچی کو ایک بہتر مستقبل دینے کی خاطر ملک سے باہر کمائي کے لیۓ گیا ہوا تھا

اسے کیا خبر تھی کہ جس بچی کے روشن مستقبل کی خاطر وہ ملک سے باہر دھکے کھا رہا ہے اس بچی کے ساتھ اس کے اپنے ملک میں کیا ہو نے والا ہے

کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد بلاآخر گھر والوں کو فزا مل گئی مگر اس کی حالت دیکھ کر سب کو قصور کی مظلوم زینب یاد آگئی فزا کی لاش ایک بار پھر کسی بے رحم نے اپنی ہوس کی تکمیل کے بعد کچرہ کنڈی کی زینت بنا دی تھی

اس کا بے رحمی سے نچا ہوا لاشہ اس کا تار تار لباس چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ حوا کی یہ معصوم بیٹی مرنے سے پہلے کس شدید ترین اذیت کا نشانہ بنی ہو گی

 

کسی حیوان نے اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے بعد اس بچی کی سانسوں کو بھی اس خیال سے چھین لیا تھا کہ وہ لوگوں کو اس کی شناخت نہ بتا دے ۔ لاش ملتے ہی قیصل آباد والے سڑکوں پر نکل آۓ انہوں نے وہ تمام حق ادا کیۓ جو اس موقعے پر لوگ کرتے ہیں یعنی توڑ پھوڑ ، دھرنا جلاؤ گھیراؤ مگر نہیں کیا تو ایک ہی کام نہیں کیا کہ اپنے اندر سے اس وحشی حیوان کو نکال پھینکیں جو اس طرح کی معصوم بچیوں کی عصمتوں کو نہ صرف تار تار کرتا ہے بلکہ ان معصوموں کی سانسیں بھی چھین لیتا ہے

بچی کی پوسٹ مارٹم دپورٹ سے بھی اس امر کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اس کو قتل کرنے سے قبل جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ معصوم فزا کی ماں کی بے قراری کو قرار دینے کے لیۓ یہ لازم ہے کہ اس وحشی کو اس ماں کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جاۓ جس نے اس کی معصوم فزا کو مرنے سے پہلے شدید ترین اذیت کا نشانہ بنایا

مگر انصاف دلانے والے ارباب اقتدار صرف وعدے وعید ہی کرتے نظر آرہے ہیں زینب کے قاتل بھی ابھی تک سزا تک نہیں پہنچ سکے ہمارے عدالتی نظام کی سست روی اور ہماری قوم کی زود فراموشی ایسے وحشیوں کے حوصلوں میں مذید اضافہ کرتی ہے جیسے زینب کے حق کے لیۓ پوری قوم نے آواز اٹھائی تھی ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کی مصروفیات سے تھوڑی توجہ ہٹا کر اس فزا کے لیۓ بھی آواز اٹھائی جاۓ

 

To Top