کس گناہ کرنے والے کی کبھی کوئ دعا قبول نہیں ہوتی ہے

کس گناہ کرنے والے کی کبھی کوئ دعا قبول نہیں ہوتی ہے

دعا عبادات کا مغز ہے، اس  سے اظہار بندگی ہوتا ہے، رب سے  نہ مانگنا بے پرواہی کی نشانی ہے، بندے کی شان یہ ہے کہ اپنے رب سے ہر وقت دعا مانگتا رہے، اس سے  سے محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے کیونکہ انسان اپنے حاجت روا کو محبوب جانتا ہے، دعاء سے اطاعت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس سے اپنی محتاجی اور رب کی بے نیازی کا پتہ لگتا ہے، دعاء سنت انبیاء ہے، ہر پیغمبر نے ہر موقع پر دعائیں مانگیں، دعا رب کو پیاری ہے، اس لئے اس نے قرآن حکیم میں حکم دیا۔ دعا سے آنے والی مصیبت ٹل جاتی ہے اور بدنصیبوں کے نصیب کھل جاتے ہیں، دعا سے رب کی رحمتیں قائم رہتی ہیں، ہر عبادت بغیر دعاء معلق رہتی ہے، دعاء اس کا پر ہے جس سے وہ بارگاہ الٰہی میں پہنچتی ہے۔

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ ایک کام تمہارا ہے اور ایک کام ہمارا۔تمہارا کام دعا مانگنا ہے، ہمارا کام قبول کرنا ۔ ( درمنثور )
اللہ تعالٰی اس سے حیا فرماتا ہے کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی واپس کرے۔ ( مشکوۃ )

 

اللہ اور اس کے رسول نے انسان کو  مانگںے کے آداب اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی شرائط بتا دی ہیں جن کے بغیر دعا عرش کے کنگروں تک نہیں پہنچ سکتی اور قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتی خواہ اس کو مانگنے والا جتنا بھی رونا دھونا کر لے

دعا کیوں قبول نہیں ہوتی

ایک روز حضرت سعدابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دعا کیجئے کہ میں مقبول الدعا بن جاؤں، تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال غذا اختیار کر !! تیری دعا قبول ہوا کرے گی

حرام کمائی کرنے والے کی دعا کبھی قبول نہیں ہوتی ہے

جو گوشت حرام و رشوت سے پلا ہو اس میں دوزخ کی آگ جلد اثر کرے گی۔ ( عزیزی )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاکیزگی ہی کو پسند فرماتا ہے

گر کوئی شخص رشوت بھی کھاتا ہو، اور مال غبن و خیانت بھی اڑاتا ہو، شراب بھی پیتا ہو، اور غریبوں کا لہو بھی چوس کر جیتا ہو، اور ہر چیز حرام ہی اس کے یہاں عام ہو تو ایسے شخص کی پکار قبولیت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی

ایسا شخص جس کا ذرائع آمدنی مشکوک ہو ایسے انسان کا کھانا پینا اوڑھنا بچھونا سب حرام ہوتا ہے اور ایسے انسان کا جسم بھلے بطاہر بہت خوشبودار اور آراستہ پیراستہ ہو مگر اس کی روح بہت متعفن ہوتی ہے اور پاکیزگی کو پسند کرنے والا رب اس کی آواز کو نہیں سنتا ہے اسی سبب ایسے انسان کی دعا کبھی بھی قبولیت کا درجہ نہیں پاتی ہے

 

To Top