اینیمٹڈ فلم ڈونکی کنگ کا وزیر اعظم عمران خان سے کیا تعلق ہے ؟؟ اس فلم کے ٹیزر میں ایسا کیا ہے جس نے سوشل میڈيا پر بھونچال برپا کر ڈالا
Parhlo Urdu

اینیمٹڈ فلم ڈونکی کنگ کا وزیر اعظم عمران خان سے کیا تعلق ہے ؟؟ اس فلم کے ٹیزر میں ایسا کیا ہے جس نے سوشل میڈيا پر بھونچال برپا کر ڈالا

گدھا یا ڈونکی ایک ایسا جانور ہے جو تاریخ کے ابتدائی دور سے ہی حضرت انسان کا بوجھ ڈھونے کے کام آتا ہے اس جانور کو اس کی محنت اور جانفشانی کے سبب مغرب میں انتہائی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یہاں تک کہ برطانیہ کی ایک سیاسی پارٹی کا انتخابی نشان بھی گدھا ہے جب کہ اسی جانور کو مشرق والے بے وقوف اور احمق گردانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کسی کی تضحیک مطلوب ہوتی ہے تو اس کو گدھے کے نام سے پکارا جاتا ہے

پاکستانی سیاست میں بھی گدھے کا نام اکثر و بیشتر سیاست دانوں کے منہ سے سننے میں آتا ہے جیسے کہ موجودہ وزير اعظم عمران خان جب اپوزیشن لیڈر تھے  ان دنوں میں انہوں نے ان تمام سیاسی کارکنوں کو گدھے کے نام سے پکارا تھا جو کہ ائیر پورٹ پر نااہل وزیر اعظم نواز شریف کے استقبال کے لیۓ گۓ تھے

مگر اب سیاسی حالات بدل چکے ہیں اور عمران خان وزارت عظمی کی کرسی سنبھال چکے ہیں مگر ان کے مخالفین ان کی اس بات کو آج تک نہیں بھولے یہی سبب ہے کہ جیو فلمز والوں نے جب اپنی اینی میٹڈ فلم ڈونکی کنگ کا ٹیزر جاری کیا تو اس کو دیکھ کر کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ایک شر انگیز آئیڈیا آیا اور انہوں نے اس ٹیزر میں کچھ تبدیلیاں کر کے اس کو سوشل میڈيا پر پھیلا دیا

ان تبدیلیوں کے مطابق ان لوگوں نے ڈونکی کنگ کو وزیر اعظم عمران خان کے نام سے موسوم کیا جب کہ سابقہ بادشاہ شیر کو نواز شریف قرار دیا یو ٹیوب پر موجود یہ ویڈیو  دیکھتے ہی دیکھتے وائرل  ہو گئی اور اس کو لاکھوں لوگوں نے دیکھ ڈالا

اس ویڈیو کے حوالے سے ایک پرائیویٹ چینل پر پروگرام کرتے ہوۓ معروف تجزیہ نگار عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے ٹیزر سے قبل ایک نوٹ ہمیں اپنی ٹی وی اسکرین پر نظر آتا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈيو جیو فلمز کی ملکیت ہے اور ادارہ اس ویڈیو کے کسی بھی حصے کو بلااجازت استعمال کرنے کے خلاف قانونی چارہ جوئي کا حق محفوظ رکھتا ہے اس کے باوجود اب تک جیو فلمز نے یو ٹیوب پر جاری ہونے والی اس ویڈیو کو بنانے والوں کے خلاف کوئي کاروائي نہیں کی ہے

دوسری جانب اس ویڈيو کے حوالے سے ایک اور بات بھی سامنے آئي ہے کہ یو ٹیوب پر سے اس ویڈيو کے ان حصوں کو ہٹا دیا گیا ہے جس میں سابق نااہل وزير اعظم نواز شریف اور شہباز شریف کی آوازیں ڈب کی گئی تھیں جب کہ وہ ویڈیو اب بھی موجود ہے جس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو نشانہ بنایا گیا ہے

سیاسی اختلافات سے قطع نظر اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیۓ کہ عمران خان اب ملک کے وزیر اعظم ہیں ان کی عزت پاکستان کی عزت ہے اس وجہ سے تمام اختلاف کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ سوشل میڈيا پر ہر جانب سے اس قسم کی ویڈيو کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور ذرائع کے مطابق جیو فلمز والوں کی جانب سے بھی ڈونکی کنگ  اس ویڈیو کو کاپی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا ہے

 

Snap Chat Tap to follow