ڈاکٹر سمیت پورا ہسپتال میرے شوہر کا قاتل ہے، یہ لوگ میری تباہی کے ذمہ دار ہیں

ڈاکٹر سمیت پورا ہسپتال میرے شوہر کا قاتل ہے، یہ لوگ میری تباہی کے ذمہ دار ہیں

میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی سب کی لاڈلی بھی تھی مجھ سے پہلے میری دو بہنوں کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے گھروں میں سکون کی زندگی گزار رہی تھیں ۔ جب میرا رشتہ آیا تو چونکہ والد کا انتقال ہو چکا تھا تو بھائی اور امی نے ضروری تحقیقات کے بعد ہاں کہہ دی ۔

میرے شوہر بہت اچھے اور دل کے کھرے انسان تھے ۔وہ ہاتھ کے بہت کھلے تھے جب ان کے پاس پیسے ہوتے تھے تو وہ کل کا سوچنے کے بجاۓ خرچ کرنے پر ترجیح دیتے تھے ۔ اس لۓ کبھی نرمی اور کبھی گرمی میں حالات گزر رہے تھے اس عالم میں ہمارے تین بچے بھی ہو گۓ۔

خاندان میں ذیابطیس کی بیماری کے سبب میرے شوہر بھی اس بیماری میں تیس سال کی عمر ہی میں مبتلا ہو گۓ ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو ہائی بلڈ پریشر بھی تھا ۔ان بیماریوں کے سبب ایک دن مجھے یہ انکشاف ہوا کہ میرے شوہر کے دونوں گردے کام کرنا چھوڑ چکے ہیں جس کے بعد ایک سخت ترین دور کا آغاز ہوا۔

1

ڈاکٹر نے ڈائلیسس کا مشورہ دیا اور اس کا آغاز بھی ہو گیا۔ دوسرا حل ڈاکٹر نے گردوں کا ٹرانسپلانٹ بتایا میری رہائش پشاور میں تھی وہاں کوئی بڑا ہاسپٹل نہ تھا جہاں ٹرانسپلانٹ کروایا جا سکے ۔مجھے لوگوں نے پنڈی جانے کا مشورہ دیا جہاں پر ایسے لوگوں کا بھی آپریشن ہوتا تھا جن کے پاس ڈونر موجود نہیں ہوتے تھے ۔

 

میرے شوہر کا بھی ایسا کوئی خونی رشتہ نہ تھا جو کہ اپنا گردہ عطیہ کر سکے اس لۓ مجھے یہی مناسب لگا کہ میں اس ہاسپٹل میں اپنے شوہر کو دکھاؤں ۔جب میں وہاں گئی تو ڈاکٹر نے میرے شوہر کے ٹیسٹ کۓ اور کہا کہ جیسے ہی آپ کا ڈونر ملا ہم آپ کو بتا دیں گے آپ فوری طور پر پیسوں کا انتظام کریں ۔

ڈاکٹر نے آپریشن سمیت پندرہ لاکھ کا خرچہ بتایا ۔ہم واپس آۓ اور اپنا سب کچھ بیچ دیا تاکہ اپنے شوہر کی زندگی بچا سکوں ۔ یہاں تک کہ اپنی آمدنی کا ذریعہ ایک کوسٹر تھی وہ بھی بیچ ڈالی یہ یقین تھا کہ میرے شوہر کی زندگی ہو گی تو سب دوبارہ بن جاۓ گا ۔

2

میرے بچے بہت چھوٹے تھے سب سے بڑی بیٹی کی عمر تیرہ سال تھی ۔ اور بیٹے اس سے چھوٹے تھے ۔ میرا واحد سہارا ہی میرا شوہر تھا ۔پیسوں کا انتطام ہونے کے بعد ہم نے ان کو فون کر کے بتا دیا کہ پیسوں کا انتطام ہو گیا ہے ۔اس کے دو دن بعد ڈاکٹر نے ہمیں اطلاع دی کہ ڈونر کا بندوبست ہو گیا ہے ہم مریض کو لے کر آجائیں ۔

جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے ان سے تقاضا کیا کہ ہمیں ڈونر سے ملوایا جاۓ تو انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ڈونر نہیں چاہتا کہ آپ اس کو پہچانیں کیونکہ وہ تو گردہ فروخت کر رہا ہے ۔خیر اس کے بعد آپریشن ہوا ۔ایک طویل آپریشن کے بعد میرے شوہر کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گيا ۔

دس دن بعد انہوں نے میرے شوہر کو گھر جانے کی اجازت دے دی مگر اس بات کا پابند کیا کہ کچھ عرصے تک ہم ڈائلیسس کرواتے رہیں گے ۔گھر آتے ہی میر ے شوہر کی حالت بگڑنے لگی اور اگلے ہی دن ان کا انتقال ہو گیا ۔ آج سات سال ہو گئے ٹی وی پر راولپنڈی کے ایک ہسپتال پر چھاپے اور ڈاکٹر کی گرفتاری کی خبر نے چونکا دیا کہ وہاں گردوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ہوتا تھا ۔

میرا گھر بار ،سہاگ سب کچھ ان ظالموں کے سبب لٹ گيا۔ لوگ کہتے ہیں انہوں نے پیسوں کی لالج میں میرے شوہر کو غلط گردہ لگایا تھا ۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ ان لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جاۓ تاکہ آئندہ ایسی حرکت کوئی نہ کر سکے

To Top