ذیابطیس کے مریض کی مدد کی اپیل ! گھر والوں کے سلوک کا شکوہ

ذیابطیس کے مریض کی مدد کی اپیل ! گھر والوں کے سلوک کا شکوہ سب کے سامنے انوکھے انداز میں کر ڈالا

پھیکی چاۓ ، بھوسے والی روٹی، ناپ تول کے کھانا اور نگرانی کرتی نگاہیں، اور ان سب کے ساتھ ساتھ روزانہ ایک گھنٹے کی جسمانی مشقت یقینا آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ گوانتانا موبے کے کسی سیل یا کسی پاکستانی جیل کا منظر بیان کیا جارہا ہے۔ مگر نہیں جناب یہ ذیابطیس کے ستائے ہوئے کے شب و روز کا احوال ہے۔ لگتا ہے ذیابطیس نہ ہوئی قید بامشقت ہو گئی۔

اس قید مشقت سے قبل کبھی ہم بھی خوبصورت تھے ۔ ہماری زندگی بھی ہر قسم کی خوشی سے معمور تھی ۔ خوش ہوتے تو کہا کرتے تھے کچھ میٹھا ہو جاۓ اور پھر چاکلیٹ یا مٹھائی ہمارے لبوں کو چومتے ہوۓ ہمارے معدے کا حصہ بن جاتی تھی ۔پھر یوں ہوا کہ وقت ہم سے روٹھ گيا، دشمنوں کو ہماری خوشیاں ایک آنکھ نہ بھائیں ،ان کی بری نظر ہماری ہنستی کھیلتی زندگی کو لگ گئی اور ہم ذیابطیس میں مبتلا ہو گۓ ۔

1

Source: Giphy

شروع شروع میں تو ہم سمجھے کہ ہلکے بخار کی طرح یہ بھی کوئی رومینٹک سی بیماری ہو گی جونوجوانی کے پیار کی طرح چند دن سر چڑھ کر بولے گا اور پھر اتر جاۓ گا ۔ مگر یہ بیماری تو پھپھو کی بیٹی کی طرح گلے پڑ گئی جس سے نہ صرف شادی کرنی پڑی بلکہ تاعمر ساتھ جینے مرنے کا وعدہ بھی کرنا پڑا یعنی اب مر کر ہی اس ذیا بطیس نامی بلا سے جان چھٹ سکتی ہے ۔

2

Source: Pinterest

سوچتے ہیں مر کے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے ۔ایک زمانہ تھا جب خواب دیکھتے تو ان میں خود کو حسین وادیوں میں حسینوں کے جھرمٹ میں دیکھا کرتے تھے ۔اور جب سے ذیابطیس ہوئی خواب میں صرف غیر آسودہ خواہشات ہی نظر آتی ہیں ۔

کبھی خود کو تنہا کسی حلوائی کی دکان میں رات گزارتے دیکھتے ہیں یا پھر پیزا، زنگر، چاکلیٹ کیک، ملک شیک، کی دعوت اڑاتے دیکھتے ہیں ۔

3

Source: Giphy

کبھی جو پیٹ میں درد ہوا کرتا تھا یا بد ہضمی کا اندیشہ ہوتا تھا تو اس کا علاج ہمیشہ ہماری پسندکاہوا کرتا تھا ۔ فورا دو تین بوتلیں کولڈ ڈرنک کی پی لیتے اور بدہضمی اور پیٹ درد میں افاقہ ہو جاتا تھا ۔ اب اول تو بھوسے والی روٹی اور رنگ برنگی سبزیوں نے کبھی معدے کو اس حالت میں آنے ہی نہیں دیا کہ وہ خود کو بھرا پرا سمجھے اور اس میں درد ہو پھر اگر اتفاق سے کولڈڈرنک کی خواہش کے ہاتھوں ہم مجبور ہو کر پیٹ درد کا بہانہ کر بھی لیں تو بدلے میں کولڈ ڈرنک کے بجاۓ کارمینا کی گولی ملتی ہے ۔ جس کو کھانے کے بجاۓ دل کرتا ہے کہ پستول میں ڈال کر خود پر ہی چلا دیں۔

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا ، مجھے یقین ہے یہ گانا کسی ذیابطیس کے مریض ہی نے گایا ہو گا۔ جتنی سختی اور نگرانی اپنوں کی جانب سے کی جاتی ہے اس کے لئے کسی دشمن کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔ لگتا ہے یہ کوئی اپنا نہیں بلکہ انڈیا کی جانب سے بھیجا گیا کوئی جاسوس ہے۔

اللہ ہمارے دشمنوں کو بھی اس ذیابطیس اور اس کی شر انگیزیوں سے محفوظ رکھے ۔ اور ہم سب کو صبر عطا فرماۓ کیونکہ اس بیماری کے ساتھ گزارے کے لئے صبر اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی ڈکٹیٹر بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے چاہیئے ہوتا ہے۔

To Top