دیسی شادیوں میں ہونے والے وہ واقعات جو ان کو یادگار بنا دیتے ہیں

دیسی شادیوں میں ہونے والے وہ واقعات جو ان کو یادگار بنا دیتے ہیں

ہمارے معاشرے میں شادی کی تقریب ایک ایسا بڑا موقع ہوتا ہے جس میں دولہا دلہن کے علاوہ پورا خاندان شامل ہوتا ہے ۔ اس تقریب کے انتظامات اور اس کے اندر ہونے والی الجھنیں اپنے اندر ایک حسن رکھتی ہیں ۔ ایسے ہی کچھ واقعات جب وقت گزرنے کے ساتھ یاد کرتا ہے تو اس کے لبوں پر خود بخود ہنسی آجاتی ہے ۔

جب مہمان آجائیں اور آپ ہال میں نہ پہنچے ہوں

وقت کی پابندی نہ کرنا ہماری قوم کا شیوہ ہے ۔ مگر اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے کہ مہمانوں کی آمد سے قبل میزبان لازمی طور پر ان کے استقبال کے لیۓ موجود ہونے چاہیے ہیں ۔ مگر بعض اوقات شادی کی تیاریوں کے چکر میں انسان اس بری طرح پھنس جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود مہما نوں کے استقبال کے لیۓ نہیں پہنچ پاتا اور اس کے بعد رشتہ داروں کے ہاتھوں ہونے والی خاطر تواضح نہ صرف یاد گار ہوتی ہے بلکہ باعث شرمندگی بھی ہوتی ہے ۔

شادی پر ناشکرے مہمانوں کی آمد

ہماری دیسی شادیوں کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کا انعقاد عموما ایسے دنوں میں کیا جاتا ہے جب کہ اسکولوں میں چھٹیاں ہوں ۔اسی سبب دور پار سے بھی سارے رشتے دار آکر گھر میں ڈیرہ جما کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اور میزبانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ان کی خاطر مدارت اس طرح کریں کہ اس میں کوئی کمی واقع نہ ہو

اس کے باوجود ان مہمانوں کے تبصرے آپ کو سر پیٹ لینے پر تو مجبور کر ہی دیتے ہیں ۔

شادی ہو اور خاندان میں چھگڑے نہ ہوں ایسا ناممکن ہے

شادی کا موقع وہ موقع ہوتا ہے جب کہ ننھیال اور ددھیال والے سب جمع ہوتے ہیں اور اس کے درمیان ہونے والی مسابقت اس موقع پر واضح طور پر نظر آتی ہے ممانیوں اور پھوپھیوں کے درمیان ہونے والی چپقلش واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے ۔اس موقعے پر آپ اس کا حصہ نہ بھی بننا چاہیں تو پھر بھی سب کو ایک وقت میں راضی رکھنا ایک ناممکن امر ہے ۔

مہمانوں کے ناقابل برداشت سوالوں کا سامنا کرنا

مہمان چونکہ چھٹیوں کے موڈ میں ہوتے ہیں اسی سبب وہ ہر بات کو تفریح کے انداز میں لے رہے ہوتے ہیں ۔ان میں موجود خواتین کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر لیں جس کو وہ بعد میں انتہائی فخر کے ساتھ دوسرے لوگوں تک منتقل کر سکیں ۔

اسی سبب وہ ہر لمحے کریدنے میں لگی رہتی ہیں ۔کتنے جوڑے رکھے کون سا جوڑا کہاں سے لیا کھانے کا آرڈر کس کو دیا ۔ پہناونیاں کہاں سے لیں اور ان کی قیمت کیا ہے ۔حق مہر کتنا ہے ایسے الابلا سوالات کی ایک لسٹ جو شادی کے انتظامات میں مصروف گھر والوں کو سر پیٹ لینے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔

شادی کے موقعے پر اپنے بیٹے یا بھائی کے لیۓ رشتہ ڈھونڈنے والی آنٹیاں

ان خواتین کا کسی بھی شادی میں شرکت کا ایک ہی سبب ہوتا ہے کہ لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم کر سکیں ۔ان کی نظریں اچھی بھلی پر اعتماد لڑکی کو بھی گھن چکر بنا دیتی ہیں ۔پھر ان کی نظر میں جچنے والی لڑکی کے شاتھ جھوٹے پیار دلار کا مظاہرہ اور اس کو پوری طرح جاننے کی کوشش تمام کنواری لڑکیوں کا ایک سوئمبر سا رچا دیتے ہیں ۔

کمیرے کے سامنے اداکاری کرتے رشتے دار

 

آج کل اسمارٹ فون نے ہر انسان کو پیشہ ور کیمرا مین بنا دیا ہے ۔اور شادی جیسے موقعے پر جب سب نے رج کے منہ دھویا ہوتا ہے تصویریں بنوانا نکاح سے زیادہ اہم فریضہ ہوتا ہے ۔اس موقعے پر عجیب عجیب شکلیں  بنا کر تصویریں بنانے کا ہنر ہماری دیسی شادیوں پر آۓ ہوۓ مہمانوں کا ہی خاصہ ہے ۔

کھانے پر ٹوٹ پڑنے کے مناظر

 

شادی میں شرکت کا واحد سبب کھانا کھانا ہی ہوتا ہے جس کی تیاری رشتے دار ہفتوں پہلے سے کر رہے ہوتے ہیں ۔اس کا اندازہ کھانا کھلتے ساتھ ہی ہو جاتا ہے ۔جب تمام تہزیب اور مروت کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ کھانے کی ٹیبل کی جانب دوڑ لگائی جاتی ہے ۔اس موقعے پر سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں ۔

ہاتھوں میں پلیٹیں تھامے لوگ ان پلیٹوں کو اس طرح بھر رہے ہوتے ہیں جیسے لوگ پزا ہٹ جا کر سلاد کا پلیٹر بھرتے ہیں

[adinserterblock=”15″]

ایسے ہی کچھ کھٹے میٹھے واقعات کے ساتھ ہماری دیسی شادیوں کا اختتام ہوتا ہے جس کی کھٹی میٹھی یادیں لوگوں کو سالوں یاد رہتی ہیں

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top