کرونا وائرس ،موذی مرض سے چھٹکارا اور اسلام میں طہارت کی اہمیت

کرونا وائرس ،موذی مرض سے چھٹکارا اور اسلام میں طہارت کی اہمیت

کرونا،وائرس،چھٹکارا،متاثر

لاکھوں افراد کرونا وائرس سے متاثر!

عالمی وبا نے اس وقت پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے جبکہ ابھی تک اس چھٹکارے کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت لگ بھگ لاکھوں افراد اس وبائی مرض سے متاثر ہو چکے ہیں ۔جبکہ بیشتر ممالک نے اپنے بارڈرز پرپابندی لگادی ہے۔ مکہ مکرمہ سمیت متعدد  مقدس مقامات  پر  جانے پر بھی پابندی عائد  کر دی گئی ہے ۔ جبکہ عالم دین کی جانب سے بھی  گھروں پر نماز ادا کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

کرونا،وائرس،چھٹکارا،متاثر

Foreign Policy

اس ضمن میں   اگراسلامی نظام میں طہارت کی بات کی جائے تو آج میڈیکل سائنس بھی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگئی ہے   کہ دن میں چار سے پانچ بار طہارت کرنا صحت کے لیے کتنا مفید ہے جبکہ اسلام نے پنج وقتہ نماز کے لیے  پانچ بار وضو کرنافرض قرار دیا ہے جس کی تعلیم ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سوسال پہلے ہی دے دی تھی

۔ایسی صورتحال میں کہ جب عالمی وبا کے باعث فلائٹس آپریشن بھی معطل کردیے گئے ہیں اور زمینی راستوں پر بھی پابندی عائد کردی  گئی ہے تو اس حوالے سے فرمان رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے

رسول  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

“جب تمہیں  کسی سر زمین  میں “طاعون(نامی وبا)” کا علم ہو تو اس سر زمین میں داخل مت  ہو۔  اور جب کسی ایسی سرزمین میں  “طاعون”  پھیل  جائے  جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو اس  سر زمین سے باہر مت نکلو!” (صحیح البخاری)

ایک دوسری روایت میں رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ “جو شخص “طاعون “پر صبر  کرے اس کے  لیے شہید کے برابر اجر وثواب ہے اور طاعون  سے بھاگنے  والا جہاد سے  بھاگنے والے کی طرح ہے” (مسند احمد)

کرونا،وائرس،چھٹکارا،متاثر

Madinah Quran Academy

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وبائی  امراض  سے متعلق بیان  فرمایا کہ جس علاقے میں کوئی  موذی وبا یا وائرس پھیل جائے تو وہاں  جانے  سے بالکل   احتراز کرنا چاہیے   اور جو لوگ پہلے  سے اس جگہ یا علاقے میں موجود ہوں  اور  اس وبا یا وائرس سے متاثر ہوجائیں  تو وہ اس علاقے  سے ہر گز  باہر نہ نکلیں  بلکہ وہیں  رہ کر صبر اختیار کریں اور  اللہ عزو جل  کی جانب سے  اس صبر  پریقیناً انہیں عظیم الشان اجرو ثواب  کی خوش خبری سنائی گئی ہے ۔اور آج کی جدید  سائنس نے بھی 1400 سال قبل  دی گئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی    دی گئی تعلیمات کو  وبائی صورتحال میں موثر قرار دے دیا ہے

 کووڈ 19 کے خوف کے سائے ،انسانی مدافعتی نظام وائرس کے حملے کے لیے تیار نہیں

احتیاط علاج سے بہتر ہے!

کرونا لا علاج ہے مگر چند احتیاطی تدابیر اپنا کر  آپ  خود کو اور اپنے گھر والوںکو کسی بڑے نقصان سے  بچا سکتے ہیں۔خشک کھانسی،بخار،جسم میں درداور سانس لینے میں دشواری کرونا کی ظاہری علامات ہیں جبکہ ایسی کسی صورتحال میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

گرم پانی پیئیں اور ٹھنڈی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں

ہاتھ ملانے ،گلے ملنے اور کسی کو چھونے سے گریز اختیار کریں

ہاتھوں کو اچھے طریقے سے صابن سے دھوئیں اور سینی ٹائزر استعمال کریں

پرہجوم جگہوں پر جانے سے  گریز کریں  ماسک  کا استعمال ضرور کریں

اگر آپ کو فلو کی شکایت ہو تو فوراًڈاکٹر سے رجوع کریں

موذی اور وبائی امراض سے بچنے کی دعا:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّیِئِ الْاَسْقَامِ۔

اے اللہ میں تجھ سے برص، جنون،جذام اور تمام بری بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔(سنن ابو داؤد)

To Top