ناریلیف ٹائیگر فورس،2 لاکھ سے زائد نوجوان مشن کا حصہ ،فراڈے بھی سرگرم

کوروناریلیف ٹائیگر فورس،2 لاکھ سے زائد نوجوان مشن کا حصہ ،فراڈے بھی سرگرم

کورونا ریلیف ٹائیگرز

کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے کوروناریلیف ٹائیگر فورس  کی تشکل کا اعلان کیا تھا۔  جس کی رجسٹریشن 31 مارچ سے سٹیزن پورٹل کے ذریعے ہوچکی ہے اور اب ملک بھر کےنوجوانوں نے وزیر اعظم کے اقدام کو سراہتے ہوئے اس  کی زبردست پذیرائی کی ہے ۔

کورونا ریلیف ٹائیرز

Dispatch News

غریب عوام کے گھروں میں کھانا پہنچانا،فورس کا بنیادی مقصد

انسانی خدمت کے جذبے سے بھرپور ایک ہی دن میں ملک بھر سے 2 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے کورونا ٹائیگر ریلیف فورس  کے لیے رجسٹریشن کرا لی۔ بنیادی طور پراس فورس کا مقصد ملک میں کورونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاون سے متاثرہ غریب عوام کے گھروں میں کھانا پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے اپنے ایک پروگرام میں واضح کیا تھا کہ کھانے پینےکی اشیا بنانےوالی فیکٹریاں کام کرتی رہیں گی اور ملک بھرمیں اشیائے خورونوش کی فراہمی نہیں روکی جائے گی۔

فرادیے

eWEEK.com

فراڈیے بھی نوجوانوں کو لوٹنے کے لیے سرگرم

دوسری جانب اس مشکل وقفت میں بھی خوف خد انہ رکھنے والے کچھ فراڈیے رجسٹریشن کے نام پر عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ نوجوانوں کو رجسٹریشن کےلیےجعلی ٹیلی فون کالز آنا شروع ہوگئی ہیں- جس میں نوجوانوں کو تنخواہ،موٹر سائیکل اور وردی فراہم کرنے کا جھانسہ دیا جا رہا ہے اور رجسٹریشن کے لیے ایزی پیسہ کے ذریعے پیسے بھیجنے کا کہاجا رہا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم سمیت متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عثمان ڈار نےفیک کال کرنے والوں کی گفتگو اور فون نمبر میڈیا پر جاری کریں اور نوجوانوں سے کسی قسم کی فیک ٹیلی فونک گفتگو سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹائیگر فورس کی رجسٹریشن صرف اورصرف سٹیزن پورٹل سےہو گی ، سوشل میڈیا پر رجسٹریشن کے دیگر تمام طریقہ کاراورفارم جعلی ہیں، حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کےنام پر کسی نوجوان سے رقم کا تقاضا نہیں کیا جا رہا۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے کپتان کی ٹائیگر فورس میدان میں اترے گی

کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی اہم  ذمہ داریاں

رضا کار فورس مکمل لاک ڈاؤن یا ہنگامی صورتحال میں کام کرے گی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر گھروں تک راشن پہنچائے گی۔

ریلیف فورس کے نوجوانوں  کو گھروں تک راشن پنچانے کی تربیت دی جائے گی جبکہ روزانہ کی بنیاد پر راشن بیگز تقسیم کیے جائیں گے۔

راشن تقسیم کرنے کے علاوہ ٹائیگر فورس اپنے علاقوں میں مستحق افراد کی نشاندہی بھی کرے گی ۔

رجسٹرڈ رضا کار اپنے علاقوں میں ذخیرہ اندوزوں ، گراں فروشی اور حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی بھی کریں گے۔

 ٹائیگر فورس کے رضا کاراپنے علاقوں میں قرنطینہ مراکز کےانتظامات میں بھی حصہ لیں گے۔

علاقے میں موجود کورونا کے مشتبہ کیسز اور گھروں میں قرنطینہ کیے گئے افراد کے بارے  میں بھی  تمام معلومات رکھنے کیساتھ  نماز جنازہ اور عوامی اعلانات میں انتظامیہ کی مدد کریں گے۔

کورونا ٹائیگر فورس بے روزگار افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں انتظامیہ کی مدد کرے گی

رضا کار لاک ڈاؤن پر علمدرآمد کروانے میں بھی انتظامیہ کی مدد کریں گےاور فورس

کورونا ٹائیگر فورس کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کی ذمہ داریوں ک دیکھتے ہوئے حفاظتی لباس وغیرہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

To Top