کورونا کا خوف، ایدھی سینٹر کے سرد خانے بھی بند، حکومت کہاں ہے؟

کورونا کا خوف، ایدھی سینٹر کے سرد خانے بھی بند، حکومت کہاں ہے؟

کشمیر میں کورونا وائرس

کورونا سے ہلاکت،سردخانے بند،ایدھی سینٹرنے بھی ہاتھ اٹھالیے

 بے بسی ،بے چارگی، اذیت اور کورونا کا خوف جائیں تو کہاں جائیں،عوام اپنے پیاروں کی آخری رسومات  کی ادائیگی کے لیے کہاں جائیں؟ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں سردخانوں میں لائے جانے کے بعد شہر میں کورونا کے پھیلاوؤ کو وروکنے کے لیے سرد خانے بند کردیے گئے ہیں۔

سرد خانوں کی بندش اور فیصل ایدھی کا پیغام

اس حوالے سے فیصل ایدھی کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ بعض افراد کی مبینہ طور پر کورونا سے ہلاکت کو چھپایا گیا اور سر دخانے میں میتیں رکھواتے وقت وجہ موت چھپائی گئی۔ کورونا سے متاثرہ افراد کی لاشین سرد خانوں میں بھی رکھوائی جارہی ہیں اور لوگ  انہیں غسل  بھی دلوارہے ہیں۔ اس لیےملک بھر میں  سردخانوں کو کورونا کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔

فیصل ایدھی کی اپیل

فیصل ایدھی نے عوام سے اپیل بھی کی کہ وہ میتوں کے غسل کا انتظام اپنے گھروں میں کریں جبکہ کورونا  کے باعث انتقال کرنےوالے فرد کو غسل نہ دلوائیں کیوں کہ غسل دینے والا خود بھی اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق  ملک بھر میں ایدھی ہوم کے مردہ خانے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کراچی میں  سہراب گوٹھ سے کفن اور تابوت کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ  دو افراد کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کی موت کورونا سے ہوئی، اس لیے سردخانوں کو کورونا کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے۔

ایدھی سرد خانہ

SAMAA

کورونا وائرس اور حکومتی اعداد و شمار

دوسری جانب حکومت کی جانب سے بتاگئے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے باعث  17 افراد کی  اموات  اب تک ہوچکی ہے، جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 1600 سے تجاوز کر چکی ہے۔اس ضمن میں فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ کورونا کے مشتبہ افراد کی موت کو بھی  ہم کورونا کا مریض تصور کرتے ہیں ۔ ان کہنا تھا کہ مریضوں کی اموات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ پنجاب میں سب سے زیادہ اموات کے  کیسز سامنے آئے ہیں۔جن کی تعداد روزانہ کے حساب سے 5سے  ہے۔

شرح اموات میں اضافہ مگر گھبرانہ نہیں ہے!

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت کہاں سو رہی ہے؟؟ عوام سے اصل شرح اموات  کیوں چھپائی جا رہی ہیں اور انہیں حقیقت سے دور کیوں رکھا جا رہا ہے۔ سرد خانون کے بند ہوجانے سے کیا عوام میں  مزید انتشار نہیں پھیلے گا؟ ایدھی کی جانب سے بتائی گیئں اموات کی تعداد حکومتی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔۔ آخر حکومت کب تک غفلت کی نیند سوتی رہے گی؟؟اور گھبرانہ نہین ہے کہ نعرے لگاتی رہے گی؟

ملک میں پھیلے مہلک وائرس  کے حوالے سے کب سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے؟ کوروناسے مرنے والے افراد کی غسل اورتدفین کے حوالے سے کیوں آگاہی مہم نہیں چلائی جارہی ، مرنے والاوں کی تدفین کے حوالے سے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ چین سے سبق لینے والے یہ سبق لینا کیوں بھول گئے؟ کیا عوام کو گمراہی میں رکھ کر اس مہلک وبا کے پھیلنے کا مزید انتظار کیا جارہا ہے۔ اگر ابھی بھی اس حوالے سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو نتائج بہت سنگین نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔ حکومت کو اب جاگنا ہوگا،غفلےت کی نیند کے مزے بہت لوٹ لیے گئے

مزید پڑھیے: کورونا،لاک ڈاون اور بے روزگاری۔۔غریب کی بھوک کیسے مٹے؟؟

 سرد خانے بند ہونے سے عوام اپنے پیاروں کی میتیوں کیلئے پریشان

دوسری جانب شہر میں سرد خانے بند ہونے سے عوام اپنے پیاروں کی میتیوں کے لیے پریشان ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ سرد خانے بند ہونے پر فوری تدفین کے لیے قبر بھی نہیں مل رہی ہے۔کورونا وائرس کے باعث اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے قبرستانوں سے گورکن بھی غائب ہیں، اس حوالے سے گورکنوں کا کہنا ہے کہ کورونا سے مرنے والوں کی میتیں دفنانے سے ہمیں بھی وائرس لگ سکتا ہے۔

واضح رہے چھیپا ویلفیئر کے سربراہ رمضان چھیپا نے بھی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر عارضی طور پر سرد خانہ بند کردیا ہے۔ رمضان چھیپا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ سردخانے سے کسی رضاکار میں وائرس منتقل ہو اور پھر شہر میں پھیلے۔

To Top