اگلا میچ کب ہے؟ ٹیلی وژن پر پیش کیے جانے والا مانع حمل کا اشتہار سب کو شرمسار کر گیا

اگلا میچ کب ہے؟ ٹیلی وژن پر پیش کیے جانے والا مانع حمل کا اشتہار سب کو شرمسار کر گیا

ملک کی آبادی میں اضافے کی روک تھام کے لیۓ ماضی میں جب میڈيا پر پہلی بار یہ اشتہار چلا کہ کنبہ خوش اور چھوٹا رکھیں یہی اصول بس اپنا رکھیں جب یہ اشتہار پہلی بار پاکستان ٹیلی وژن پن آن ائیر آیا تو پورے ملک میں ایک واویلا مچ گیا ۔


علما کرام نے اس اشتہار کو اسلام کے منافی قرار دیا اور اس کو بےشرمی قرار دیا اس کے بعد رفتہ رفتہ آزاد خیالی کے نام پر اور بین الاقوامی دباؤ کے زیر اثر ایسے اشتہارات میڈیا کی زینت بننے لگے اور اسلامی حلقوں نے بھی اسے درست قرار دے دیا ۔

اس کے بعد پاکستانی میڈيا نے کنڈوم کے اشتہار ساتھی کے عنوان سے نشر کیا جس میں ڈھکے چھپے لفظوں میں لوگوں کو اس کے استعمال کے فوائد بتاۓ گۓ ایسے اشتہار جب بھی ٹی وی پر چلتے لوگ اپنے خاندان کے سامنے نظریں جھکانے پر مجبور ہوجاتے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے یہاں پر شرم و حیا کو اولیت حاصل ہے لہذا اس قسم کی چیزوں کا اگر استعمال بھی کیا جاتا ہے تو اس کا تعلق میاں بیوی کے باہمی معاملات سے ہوتا ہے ان کا چرچا ایسے سرعام نہیں کیا جاتا

مغربی معاشرے میں چونکہ خاندانی نظام کا تصور سرے سے مفقود ہے اس سبب وہاں کی طرز معاشرت کو دیکھتے ہوۓ اس قسم کے اشتہارات عام سی بات لگتے ہیں اس بار پی ایس ایل 3 کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی وی پر ایک کنڈوم کا اشتہار بھی تواتر سے دکھایا جا رہا ہے ۔

جس میں ایک میاں بیوی صوفے پر بیٹھے ہوۓ ایک اشتہار دیکھ رہے ہوتے ہیں اور پس منظر میں میچ کی کمنٹری چل رہی ہوتی ہے جس میں ذومعنی الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد چند لمحوں کے لیۓ میاں بیوی اسکرین سے غائب ہوجاتے ہیں ۔

جب وہ واپس نظر آتے ہیں تو ان کی حرکات سے ان کے غائب ہونے کی وجہ سمجھ آتی ہے اس کے بعد بیوی اپنے شوہر سے ذومعنی انداز میں پوچھتی ہے کہ اگلا میچ کب ہے اور اس کے ساتھ ہی کنڈوم کی تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔

مغربی معاشرے میں جہاں ہر فرد اپنی جیب میں کنڈوم لیۓ گھومتا ہے کہ نہ جانے کب کہاں موڈ بن جاۓ وہاں تو اس قسم کے اشتہارات کی ضرورت سمجھ آتی ہے مگر پاکستانی معاشرے میں جہاں جنسی تعلق کو صرف اپنی بیوی تک ہی محدود رکھنے کا حکم ہے وہاں اس قسم کے اشتہارات فحاشی اور عریانیت کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں ۔

 

To Top