قیامت سے پہلے قیامت، آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ اس کے اٹھائیس سالہ کزن کی جنسی زیادتی

قیامت سے پہلے قیامت، آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ اس کے اٹھائیس سالہ کزن کی جنسی زیادتی

انسان کا تعلق خواہ کسی بھی مزہب ، قوم یا معاشرت سے ہو اس کے اندر اللہ کی جانب سے غلط اور صحیح کا پیمانہ موجود ہوتا ہے ۔ اسی پیمانہ کے ذریعے آج کے دن تک دنیا میں اچھائی کا وجود بر قرار ہے ۔انسان کو اللہ تعالی نے اسی سبب اس کے اعمال کا ذمہ دار قرار دیا ہے.

مگر جب انسان اپنے سوچنے سمجھنے کی اس حس کو کسی نشے کے زیر اثر لے آتا ہے تو پھر اس کے حواس اس قابل نہیں رہتے کہ وہ انسانیت اور انسانیت کی شرائظ کو سمجھ سکے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہندوستان کے شہر نئی دہلی کے مضافات میں پیش آیا جہاں ایک اٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ اس کے اٹھائیس سالہ کزن نے جنسی زیادتی کر ڈالی ۔

تفصیلات کے مطابق ایک خاتون جو لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پونچھا کیا کرتی تھی جب کام کے لیۓ جانے لگی تو اپنی بیٹی کو اپنی نند کے حوالے کر گئی ۔ اتوار کا دن ہونے کے سبب اس عورت کی نند کا اٹھائیس سالہ بیٹا بھی چھٹی کے سبب گھر پر ہی موجود تھا ۔

وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا اس نے جب دیکھا کہ اس کی ماں آس پاس موجود نہیں ہے تو اس نے شراب جسے ام الخبائث بھی کہا جاتا ہے کے نشے میں دھت ہو کر اس آٹھ ماہ کی بچی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا ۔

اپنی ہوس کی تکمیل کے بعد اسے لگا کہ اس بارے میں کسی کو بھی پتہ نہیں چل سکے گا ۔آٹھ ماہ کی بچی اس بارے میں کسی کو بھی بتانے کے قابل نہیں ہو گی ۔اس لیۓ اس نے اس کو زندہ چھوڑ دیا ۔

شام کے وقت جب اس بچی کی ماں واپس گھر آئی تو اس نے بچی کے کپڑوں پر خون کے نشان دیکھے اور بچی کی حالت کو بھی خراب پایا ۔جس وقت وہ اس روتی بلکتی بچی کو معائنے کے لیۓ ڑاکٹر کے پاس لے کر گئی تو ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس پر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ اس بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے ۔

جس کے سبب اس بچی کو اندرونی طور پر شدید چوٹیں آئی ہیں ۔ لہذا اس کا فوری طور پر آپریشن کیا جاۓ گا ۔ آپریشن کے نتیجے میں بچی کی زندگی تو بچ گئی مگر پولیس نے اس بچی کے کزن کو اس بچی کے ساتھ جنسی زيادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے ۔اور اس نے اپنا جرم قبول بھی کر لیا ہے ۔

To Top